Screenshot
لندن( پ ر ) آزادی کے لیے جدوجہد کرنا کوئی جرم نہیں بھارت نے بھی اسطرح برطانیہ سے آزادی حاصل کی تھی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چئیرمین یاسٰین ملک پر جعلی مقدمات بنا کر عمر قید کی سزا دی گی ہے پاکستان کشمیریوں کاوکیل ہے اور یاسٰین ملک کا کیس عالمی انسانی حقوق کی عدالت میں پیش کیا جائے حریت رہنماؤں کی رہائی کے حکومت پاکستان اپنا سفارتی کردار ادا کرئے۔ تحریک کشمیر یورپ کے زیر اہتمام آن لائن اجلاس سے تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب۔جنرل سکریٹی میاں محمد طیب۔ تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی۔ اسپین کے صدر راجہ شفیق تبسم۔ سوئٹز لینڈ کے صدر عجاز احمد طاہر چوہدری۔ جرمنی کےصدر ریاض شائد گھمن۔ جنرل سکریڑی۔ فاروک بیگ۔ ناروے کے جنرل سکریٹری محمد ناصر۔ رفاقت حسین۔ ڈنمارک کے نائب صدر شہزاد بٹ نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ یاٰسین ملک کے خلاف بھارت نے اس لیے مقدمات قائم کر رکھے ہیں کہ انہوں مقبوضہ کشمیر کی آزادی بھارت کے فوجی تسلط کے خلاف ہیں مگر حریت رہنما بھارت کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں اپنے حق خودارادیت کے لیے جدوجہد جارہی رکھے ہوئے ہیں بھارت کے ظلم اور بربریت کو برداشت کر رہے ہیں کوئی حریت رہنما بھارت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے لیے تیار نہیں کشمیری کی تحریک آزادی حق اور انصاف پر مبنی ہے اور بھارت کے لیے نوشتہ دیوار ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور عالمی معائدوں کی پاسداری کرے مسلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے مذاکرات اور امن کا راستہ اختیار کرئے اجلاس میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس سنگین صورت حال پر توجہ دے یاسٰین ملک کے ساتھ بھارت کے ان غیر انسانی ہتھکنڈوں کو روکنے کے لیے سفارتی سطح پر اجاگر کرنےکے لیے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی برادری اور عالمی امن کے علمبرداروں کی توجہ مبذول کرائے اور کشمیریوں کی وکالت کرنے حق ادا کرئے اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں ملکی اور یورپین ممبران پارلیمنٹ کو بھی ان حالات سے آگاہ کیا جائے گا کہ وہ یاسٰین ملک اور دیگر حریت رہنماوں کی رہائی کے لیے بھارت پر سیاسی اور سفارتی دباؤ ڈالا جائے کہ وہ غیر قانونی اور غیر انسانی حربوں کو بند کرے جعلی مقدمات کو ختم کرے اور حریت رہنماؤں کو رہا کرے۔
