Screenshot
اسپین کی سپریم کورٹ نے معروف ’Ley de Nietos‘ (قانونِ پوتوں) کے تحت ہسپانوی شہریت حاصل کرنے والے افراد کے انتخابی فہرست میں اندراج اور ووٹ دینے کے حق پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ احتیاطی اقدام کے طور پر کیا ہے اور حتمی فیصلہ آنے تک یہ پابندی برقرار رہے گی۔
عدالت کے مطابق بیرونِ ملک مقیم ہسپانوی شہریوں کے انتخابی رجسٹر CERA میں ان افراد کا اندراج اس وقت تک مکمل نہیں کیا جائے گا جب تک وہ یہ تصدیق پیش نہ کریں کہ وہ ایسے ہسپانوی شہریوں کے بچے یا پوتے پوتیاں ہیں جنہیں سیاسی، نظریاتی، مذہبی عقائد یا جنسی رجحان کی بنیاد پر جلاوطنی اختیار کرنا پڑی تھی اور اس دوران انہوں نے ہسپانوی شہریت کھو دی یا اس سے دستبردار ہوئے۔
سپریم کورٹ نے مرکزی انتخابی بورڈ (JEC) کو ہدایت کی ہے کہ وہ قونصلر رجسٹری دفاتر سے متعلقہ دستاویزات حاصل کرے۔ جن افراد نے شہریت کے لیے درخواست دی ہے لیکن ابھی انتخابی فہرست میں شامل نہیں ہوئے، ان کی کارروائی مکمل کی جائے گی، تاہم اس کے بعد انتخابی اندراج کو عارضی طور پر معطل رکھا جائے گا۔
’قانونِ پوتوں‘ اکتوبر 2022 میں منظور کیے گئے جمہوری یادداشت کے قانون کے تحت متعارف کرایا گیا تھا۔ اس قانون کے ذریعے بیرونِ ملک پیدا ہونے والے ایسے افراد کے لیے ہسپانوی شہریت حاصل کرنے کا راستہ کھولا گیا جن کے والدین یا دادا دادی میں سے کوئی اصل ہسپانوی شہری تھا اور جلاوطنی کی مخصوص شرائط پوری کرتا تھا۔
حکام کے مطابق تقریباً 25 لاکھ افراد نے اس قانون کے تحت ہسپانوی شہریت کے لیے درخواست دی ہے۔ ان میں سے 544,722 درخواستیں منظور ہو چکی ہیں جبکہ تقریباً 306,000 افراد ہسپانوی شہریوں کے طور پر رجسٹر ہو چکے ہیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہسپانوی حکومت نے افسوس کا اظہار کیا، جبکہ Vox نے اسے اپنی درخواست کی کامیابی قرار دیا۔ دوسری جانب حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے بھی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت پر انتخابی عمل میں مداخلت کے الزامات عائد کیے ہیں۔
