Screenshot
بارسلونا: کاتالونیا میں نئے تعلیمی سال کا آغاز اساتذہ کی ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کے ساتھ ہوا، جہاں اساتذہ نے حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کے خلاف مختلف سڑکیں اور ٹرینوں کے راستے بند کر دیے۔ پولیس نے لائیدا میں تیز رفتار ٹرین کی پٹریوں پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کو ہٹا دیا۔
کاتالونیا کے محکمہ تعلیم کے مطابق ہڑتال میں تقریباً 9.3 فیصد تعلیمی عملہ شریک ہوا، جبکہ صبح ساڑھے گیارہ بجے تک 65.68 فیصد اسکولوں کی جانب سے معلومات موصول ہوئی تھیں۔ دوسری جانب اساتذہ کی یونین USTEC کا کہنا ہے کہ ہڑتال میں شرکت کی شرح تقریباً 20 فیصد کے قریب رہی۔
بارسلونا کے مرکز میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں مقامی پولیس کے مطابق تقریباً 1,800 افراد شریک ہوئے، جبکہ یونین نے شرکاء کی تعداد 5,000 بتائی۔ مظاہرین نے حکومت اور وزیر تعلیم ایستھر نیوبو کے خلاف نعرے لگائے اور تنخواہوں میں اضافے، طلبہ اور اساتذہ کے تناسب میں کمی اور خصوصی ضروریات رکھنے والے طلبہ کے لیے بہتر تعلیمی سہولیات کا مطالبہ کیا۔
صبح تقریباً ساڑھے سات بجے بارسلونا کی رنگ روڈز پر احتجاج کے باعث ٹریفک متاثر ہوئی۔ بعد ازاں سانتا کولوما، سانت کوئیرزے ڈیل باییش، گرانویرز اور ارجنتونا سمیت مختلف علاقوں میں بھی سڑکیں بند کی گئیں۔ تاراگونا میں N-340 جبکہ لائیدا میں تیز رفتار ٹرین کی پٹریوں پر بھی مظاہرین نے احتجاج کیا۔
اساتذہ کا کہنا ہے کہ نئے تعلیمی سال کا آغاز نامکمل عملے، خصوصی تعلیمی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات اور بعض کلاس رومز میں 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت کے ساتھ ہوا ہے۔
دوسری جانب وزیر تعلیم ایستھر نیوبو نے استعفیٰ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ پیچیدہ صورتحال کے باوجود ان کی ذمہ داری نظام تعلیم میں بہتری کے لیے کام کرنا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نیا تعلیمی سال گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ پُرسکون اور تعمیری ہوگا۔
