Screenshot
بارسلونا: کاتالونیا کے شہر آرینیس دے مونت میں گھڑ سواری کے ایک استاد اور گھڑ سواری مرکز کے مالک نے سات کم عمر طالبات سے جنسی زیادتی اور ایک دوسرے طالب علم کے ساتھ توہین آمیز سلوک کے مقدمے میں 29 سال اور 5 ماہ قید کی سزا قبول کرلی ہے۔
اس مقدمے میں 42 سالہ لوئیس پی۔ جی۔، جسے ’لوئیشی‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے عدالت میں اپنے خلاف عائد الزامات کو تسلیم کرتے ہوئے استغاثہ کی جانب سے تجویز کردہ سزا سے اتفاق کیا۔ وہ اس وقت Centre Natural Eqüestre l’Espiga نامی گھڑ سواری مرکز کا مالک تھا۔
استغاثہ کے مطابق ملزم نے 2019 سے 2022 کے دوران اپنی استاد کی حیثیت اور کم عمر طالبات کے اعتماد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے متعدد جرائم کا ارتکاب کیا۔ ان میں کم عمر افراد کے خلاف مسلسل جنسی جرائم، جن میں بعض سنگین نوعیت کے واقعات بھی شامل تھے، نمائشِ عریانی، بچوں سے متعلق غیر قانونی جنسی مواد کی تیاری اور توہین آمیز سلوک شامل ہیں۔
عدالتی کارروائی کے دوران سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ملزم بعض کم عمر طالبات کو خصوصی توجہ، تعریف اور پیغامات کے ذریعے اپنے قریب کرتا اور پھر اپنے اثر و رسوخ کا فائدہ اٹھاتا تھا۔ ایک متاثرہ لڑکی کے ساتھ متعدد مواقع پر زیادتی کے علاوہ اس سے غیر مناسب نوعیت کی تصاویر اور ویڈیوز بھی طلب کرنے کا الزام ثابت ہوا۔
ایک دوسرے طالب علم کے ساتھ بھی انتہائی توہین آمیز سلوک کیا گیا، جسے عدالت نے الگ جرم کے طور پر تسلیم کیا۔
سزا کے علاوہ ملزم کو متاثرین کو 2 ہزار سے 18 ہزار یورو تک ہرجانہ ادا کرنا ہوگا اور قید کے بعد نگرانی کی مدت بھی پوری کرنا ہوگی۔ استغاثہ نے اعترافِ جرم اور متاثرین کو جزوی مالی معاوضہ ادا کرنے کے باعث سزا میں رعایت کو قبول کیا۔
یہ مقدمہ کم عمر افراد کے تحفظ اور تعلیمی و تربیتی ماحول میں اساتذہ کے اختیارات کے غلط استعمال سے متعلق سنگین سوالات بھی اٹھاتا ہے۔
