Screenshot
اسپین کے شہر سیویا کے علاقے لاس ریمیدیوس میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں 10 سالہ بچے کو اس کے گھر میں مردہ حالت میں پایا گیا۔ واقعے کے بعد پولیس اور ہنگامی اداروں کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں، تاہم طبی عملہ بچے کی جان نہ بچا سکا۔
اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ پیر کی رات تقریباً 9 بجے پیش آیا۔ پولیس کو اطلاع ملنے کے بعد پولیس نیشنل کے اہلکاروں کے ساتھ سیویا کی مقامی پولیس کے گروپ آف سپورٹ اینڈ ری ایکشن (GAR)، ضلعی اہلکار اور پولیس ٹیوٹرز بھی موقع پر پہنچے۔ فائر بریگیڈ اور طبی امدادی عملہ بھی کارروائی میں شامل تھا۔
پولیس ٹیوٹرز نے کارروائی کے دوران متوفی بچے کے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال کی، جبکہ دیگر ضروری ہنگامی خدمات کو بھی طلب کیا گیا۔
واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے پولیس نیشنل نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق بچے کی موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم کے بعد ہی واضح ہو سکے گی، اس لیے فی الحال کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
سیویا کے حکومتی نمائندے فرانسسکو توسکانو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں کسی تیسرے فرد کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے نہیں آئے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ معاملے میں انتہائی احتیاط اور احترام کے ساتھ تحقیقات آگے بڑھائی جائیں گی اور فرانزک نتائج کا انتظار کیا جائے گا۔ انہوں نے بچے کے والدین، بہن بھائیوں، دیگر اہل خانہ اور دوستوں سے دلی تعزیت کا اظہار بھی کیا۔
دوسری جانب اندلس کی وزیرِ تعلیم کارمین کاستیلو نے بھی بچے کے والدین سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا تعین ضروری ہے اور قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق تعلیمی مرکز کو فی الحال ایسی کسی صورتحال کا علم نہیں جس سے اس واقعے اور اسکول کی معمول کی سرگرمیوں کے درمیان کوئی براہِ راست تعلق ظاہر ہو۔
پولیس کی تحقیقات اور فرانزک رپورٹ کے بعد ہی بچے کی موت سے متعلق مزید حقائق سامنے آ سکیں گے۔
