Screenshot
اسپین کے مرکز برائے سماجی تحقیق (CIS) کے ستمبر کے بارومیٹر کے مطابق سیوتا میں جولائی کے آخر میں پیدا ہونے والے مہاجرین کے بحران نے ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی انتخابی مقبولیت پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔ سروے کے مطابق اگر عام انتخابات ہوں تو حکمران جماعت پی ایس او ای اب بھی سب سے آگے رہے گی، تاہم پاپولر پارٹی (PP) کے مقابلے میں اس کی برتری جولائی کے 7.9 پوائنٹس سے کم ہو کر 5.5 پوائنٹس رہ گئی ہے۔
سروے میں پی ایس او ای کو 31 فیصد ووٹ ملنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے، جبکہ پی پی 25.5 فیصد ووٹ حاصل کر سکتی ہے۔ دوسری جانب ووکس نے اپنی حمایت میں اضافہ کیا ہے اور جولائی کے 15.3 فیصد کے مقابلے میں ستمبر میں اس کی مقبولیت 16.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
بائیں بازو کے سیاسی حلقے میں بھی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ سُمار کی حمایت چار دسویں پوائنٹ کم ہو کر 5.7 فیصد رہ گئی، جبکہ پودیموس نے 1.2 پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے 3.7 فیصد حاصل کیے۔ کاتالان جماعتوں میں معمولی تبدیلی آئی، ایسکیرا کی حمایت 2.5 فیصد جبکہ جنٹس 0.7 فیصد پر برقرار رہی۔
وزیراعظم پیدرو سانچیز 4.18 کی درجہ بندی کے ساتھ سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے سیاسی رہنما ہیں۔ ان کے بعد یولاندا دیاز، البرتو نونیئز فیخو اور سانتیاگو اباسکال کا نمبر ہے۔
سیوتا کے بحران کے حوالے سے 82 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ اسپین کو بڑے پیمانے پر غیر قانونی داخلوں کی روک تھام کے لیے اپنی سرحدیں مزید مضبوط کرنی چاہئیں، جبکہ 86 فیصد نے اسپین اور مراکش کے درمیان تعاون کو سرحدی سلامتی کے لیے انتہائی یا کافی اہم قرار دیا۔
تقریباً 90 فیصد شہری سمجھتے ہیں کہ یورپی یونین کو سیوتا کی صورتحال سے نمٹنے میں اسپین کے ساتھ مزید تعاون کرنا چاہیے۔ 77 فیصد افراد سیوتا اور میلیا کو جزیرہ نما اسپین کے دیگر علاقوں کی طرح مکمل طور پر ہسپانوی علاقے سمجھتے ہیں۔
سروے کے مطابق امیگریشن اب اسپین کے شہریوں کی تیسری بڑی تشویش ہے، جبکہ رہائش کا مسئلہ 37.5 فیصد کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔ علاوہ ازیں 80 فیصد کے قریب افراد موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان قومی معاہدے کے حامی ہیں۔
