Screenshot
اسپین کی قومی عدالت (Audiencia Nacional) کے انتظامی و قانونی امور کے شعبے نے تارکینِ وطن کو سیوتا کی بندرگاہ منتقل کرنے کا عمل عارضی طور پر روک دیا ہے۔
عدالت نے وزارتِ ٹرانسپورٹ سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر وہ انتظامی حکم نامہ عدالت کو فراہم کرے جس کے تحت بندرگاہ کے ایک حصے کو تارکینِ وطن کے عارضی قیام کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ عدالت اس کے بعد سندیکاتو یونیفیکادو دے پولیس (SUP) کی جانب سے دائر کی گئی فوری عبوری درخواست پر فیصلہ کرے گی۔
SUP نے عدالت کو اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وزارتِ ٹرانسپورٹ کے اس انتظامی فیصلے کی باقاعدہ اشاعت کہیں موجود نہیں، جس کے تحت سیوتا کی بندرگاہ کے پونینتے توسیعی حصے میں تقریباً 16 ہزار مربع میٹر جگہ کو تارکینِ وطن کے لیے عارضی استقبالیہ مرکز بنانے کی اجازت دی گئی۔ اس مرکز میں تقریباً ایک ہزار افراد کو رکھنے کی گنجائش بتائی گئی ہے۔
بدھ کی صبح 11 بجے سے کچھ دیر قبل قومی عدالت کے آٹھویں شعبے کے تین ججوں نے وزارتِ ٹرانسپورٹ سے مذکورہ حکم نامہ اور اس سے متعلق مکمل انتظامی فائل فوری طور پر طلب کر لی۔
عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ دستاویزات کا جائزہ لینے اور SUP کی عبوری درخواست پر فیصلہ ہونے تک تارکینِ وطن کی منتقلی نہیں کی جا سکتی۔
عدالت کے حکم میں وزارتِ ٹرانسپورٹ اور پائیدار نقل و حرکت سے کہا گیا ہے کہ وہ آج دوپہر 12 بجے سے پہلے مذکورہ حکم یا اجازت نامہ اور متعلقہ تمام دستاویزات عدالت کو الیکٹرانک طریقے سے فراہم کرے۔
5 ستمبر کو اسپین کی مرکزی حکومت نے سیوتا کی بندرگاہ کا انتظام اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ وہاں ایک ہزار سے زائد تارکینِ وطن کو منتقل کیا جا سکے۔ یہ فیصلہ سیوتا کی خودمختار حکومت کی جانب سے اس اقدام کی مخالفت کے بعد کیا گیا تھا۔
بندرگاہ پر تارکینِ وطن کے استقبال کے لیے کچھ خیمے، بستروں اور ضروری سہولیات کے ساتھ پہلے ہی تیار کیے جا چکے تھے۔ ان میں ان تارکینِ وطن کے ایک حصے کو منتقل کیا جانا تھا جو اب بھی ایل ترامپولین ساحل پر موجود ہیں۔
