Screenshot
میڈرڈ کے علاقے سانس سیبستیان دے لاس رئیز میں88سالہ خاتون کی موت کا معمہ حل ہوگیا۔مقتولہ کو اس کے 90 سالہ شوہر نے مار مار کر ہلاک کر دیا اور بعدازاں خود کو پھانسی لگا کر خودکشی کرلی۔مقتولہ انفانتاصوفیہ ہسپتال میں داخل تھی جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گئی۔
تقریباً تین برس تک ماں کی لاش فریزر میں رکھنے اور پنشن سمیت دیگر مالی فوائد حاصل کرنے کے جرم میں برطانیہ کی ایک عدالت نے بیٹے کو قید کی سزا سنادی ہے۔پاپلر کریسنٹ کے ایک گھر سے 89 سالہ سلویا فلپس کی لاش ملنے کے بعد 60 سالہ کرسٹوفر فلپس کو گرفتار کیا گیا تھا۔فلپس نے تین جرائم کا اعتراف کیا، جن میں اپنی والدہ کی تدفین قانونی اور باعزت طریقے سے نہ کرانا، ہاؤسنگ بینیفٹ حاصل کرنا، اور ونٹر فیول الاؤنس و پنشن کی رقم کا دعویٰ کرنا شامل تھا۔کرسٹوفرسلویا کا حقیقی بیٹا نہیں تھا بلکہ اس کی عمر دو سال تھی جب سلویا نے اسے گود لیا تھا۔سلویا کی انتقال کے دو دن بعد فلپس نے ایک ویب سائٹ سے ایک فریزر خریدا اور اسے کھانے کے کمرے میں رکھا۔لاش اس وقت تک وہیں رہی جب تک جنرل پریکٹشنر کی درخواست پر پولیس نے گھر آ کر تفتیش نہیں کی،جب پولیس نے فریزر کھولا تو انھیں بزرگ خاتون کی لاش ملی۔عدالتی دستاویزات کے مطابق کرسٹوفر اپنی ماں کی لاش کے قریب جا کر سوتا تھا۔بعض اوقات وہ فریزر کھول کر ان کا ہاتھ پکڑتا تھا۔سلویا نے 2021 میں اپنے مقامی ڈاکٹر کے پاس 26 مرتبہ اور 2022 میں چھ مرتبہ چیک اپ کرایا۔اس کے بعد سے ان کا ڈاکٹروں سے کوئی رابطہ نہیں ہواتو شک ہوا کہ سلویا کہاں گئی۔
