Screenshot
یورپ میں اسلام کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان دی اکانومسٹ نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ یورپ کو کسی ’’اسلامی قبضے‘‘ یا مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر بنیاد پرستی کا سامنا نہیں، تاہم اسلام ازم اور اسلام کے بارے میں پھیلایا جانے والا خوف جمہوری معاشروں کے لیے حقیقی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کئی یورپی ممالک میں تقریباً نصف آبادی سمجھتی ہے کہ اسلام مغربی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جرمنی میں اے ایف ڈی کی کامیابی، برطانیہ میں تارکین وطن کے خلاف احتجاج اور فرانس میں عوام کی بڑی تعداد کی جانب سے حجاب پر پابندی کی حمایت کو اس بڑھتے ہوئے رجحان کی مثالیں قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اسلام ایک مذہب ہے جبکہ اسلام ازم ایک سیاسی نظریہ ہے۔ اسلام کو خود یورپ کے لیے خطرہ قرار دینا درست نہیں، جبکہ ایسا سیاسی اسلام ازم بعض حالات میں مسئلہ بن سکتا ہے۔
دی اکانومسٹ کے مطابق یورپ کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کا حصہ تقریباً 6 فیصد ہے، اس لیے ’’عظیم آبادیاتی تبدیلی‘‘ یا یورپی تہذیب کے خاتمے کا تصور حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیشتر مسلمان تارکین وطن اپنے نئے ممالک میں کامیاب زندگی گزارنا چاہتے ہیں، نہ کہ ان معاشروں کو اپنے آبائی ممالک جیسا بنانا۔
تاہم رپورٹ بعض مسلم معاشروں میں ہم جنس پرستی، آزادی اظہار اور خواتین کے حقوق سے متعلق قدامت پسند رویوں کو بھی قابلِ توجہ قرار دیتی ہے۔ ساتھ ہی خبردار کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف اجتماعی بداعتمادی اور بڑے پیمانے پر ملک بدری جیسی سخت پالیسیاں بھی انتہا پسندی کو بڑھا سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یورپی حکومتوں کو تشدد اور دھمکیوں کے خلاف سخت کارروائی، آزادی اظہار کے تحفظ اور انتہا پسندی کے تمام رجحانات سے بلاامتیاز نمٹنے کی ضرورت ہے۔ آخر میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ مسلمان بھی یورپ میں اسی طرح اپنا مقام بنا لیں گے جیسے ماضی میں دیگر مذہبی و تارک وطن برادریاں بنا چکی ہیں۔
