Screenshot
بارسلونا: مصنوعی ذہانت (AI) کے مستقبل کے حوالے سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال نے عالمی اسٹاک مارکیٹس کو دباؤ میں ڈال دیا، جس کے باعث یورپ اور امریکا کی اسٹاک مارکیٹس میں مندی کا رجحان دیکھا گیا، جبکہ اسپین کا آئبیکس 35 بھی 1.4 فیصد کمی کے ساتھ کاروبار کر رہا ہے۔
ایشیا کی اسٹاک مارکیٹس پہلے ہی تقریباً 3 فیصد تک کمی کے ساتھ بند ہوئی تھیں، جس کے بعد یورپ اور امریکا کی مارکیٹس میں بھی منفی رجحان برقرار رہا۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں مسلسل اضافہ جاری ہے اور فی بیرل قیمت 107 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے عالمی معیشت اور مہنگائی کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت اور بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار کو عارضی طور پر کم کرنے کی اپیل بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
اوپن اے آئی سمیت بڑی AI کمپنیوں کے مستقبل کے حوالے سے سرمایہ کاروں میں غیر یقینی پائی جاتی ہے۔ اوپن اے آئی نے اپنی ممکنہ اسٹاک مارکیٹ لسٹنگ بھی مؤخر کر دی ہے، جبکہ اینتھروپک کی رواں سال کے آخر میں ممکنہ طور پر اسٹاک مارکیٹ میں آمد بھی نظرِ ثانی کا شکار ہو سکتی ہے۔
AI صنعت کے بڑے ناموں، جن میں داریو اموڈی، سیم آلٹ مین اور ایلون مسک شامل ہیں، نے حالیہ دنوں میں مصنوعی ذہانت کی ترقی میں احتیاط برتنے اور اس کی رفتار کو قابو میں رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی تیزی سے ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں اس کے ممکنہ اثرات پر زیادہ کنٹرول ضروری ہے۔
تاہم بعض ماہرین کا خیال ہے کہ AI کی ترقی کو روکنے کی بات صرف حفاظتی خدشات تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے مالیاتی دباؤ بھی ایک اہم عنصر ہو سکتا ہے۔ AI کے بنیادی ڈھانچے، خصوصاً ڈیٹا سینٹرز میں آئندہ سال تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبے بھی زیرِ بحث ہیں، جبکہ قیمتوں اور طلب میں تبدیلی ان بڑے منصوبوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
