Screenshot
چین کی معروف 24 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر چن زیئی، جو ’گنفان ینگ ینگ‘ کے نام سے مشہور تھیں، انتقال کرگئیں۔ ان کے والدین نے چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’کواشو‘ پر ایک تعزیتی پوسٹ کے ذریعے ان کی موت کی اطلاع دی۔ چن زیئی کے انتقال کی خبر 8 ستمبر کو سامنے آئی، جبکہ ان کا انتقال 17 اگست کو ہوا تھا۔
چن زیئی کے مطابق انہیں شدید پوٹاشیم کی کمی کے باعث اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کے خون میں پوٹاشیم کی سطح 2.3 mmol/L تک گر گئی تھی، جبکہ عام سطح تقریباً 3.5 سے 5.5 mmol/L ہوتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق طویل عرصے تک شدید ہائپوپوٹاسیمیا کے نتیجے میں ممکنہ طور پر دل کا دورہ پڑنے سے ان کی موت ہوئی۔
چن زیئی کے کواشو پر ایک ملین سے زیادہ فالوورز تھے۔ وہ ’مک بانگ‘ یعنی ایسی ویڈیوز بنانے کے لیے مشہور تھیں جن میں لوگ کیمرے کے سامنے بہت زیادہ مقدار میں کھانا کھاتے ہیں اور ناظرین سے براہِ راست گفتگو کرتے ہیں۔ ان کی ایک مشہور لائیو نشریات میں مبینہ طور پر انہوں نے 70 محفوظ کیے گئے انڈے کھائے تھے۔
رپورٹ کے مطابق چن زیئی نے ماضی میں اعتراف کیا تھا کہ وہ نوعمری میں بلیمیا کا شکار رہی تھیں اور کیمرے کے سامنے بڑی مقدار میں کھانا کھانے کے بعد بعض اوقات خود کو قے کرواتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ پروگرام پرکشش دکھائی دیتے ہیں، لیکن پردے کے پیچھے مسلسل کھانے اور طویل راتوں کی وجہ سے جسم خطرے کی نشانیاں ظاہر کرتا ہے۔
چن زیئی 24 مارچ 2002 کو صوبہ شان ڈونگ کے شہر لیاؤچینگ میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کی موت نے ان کے مداحوں کو صدمے سے دوچار کردیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سے قبل بھی چین میں کھانے سے متعلق ایسے آن لائن مواد بنانے والے بعض تخلیق کار صحت کے سنگین مسائل کا شکار ہوچکے ہیں۔
