Screenshot
سپین میں تارکینِ وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث بیرونِ ملک رقوم کی منتقلی کے کاروبار میں نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ تارکینِ وطن کی جانب سے اپنے آبائی ممالک میں اہلِ خانہ اور دیگر افراد کو رقم بھیجنے کے رجحان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے بین الاقوامی منی ٹرانسفر اور مالیاتی خدمات کا شعبہ بھی تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے۔
بینک آف اسپین کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2023 میں سپین سے بیرونِ ملک بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر تقریباً 10.7 ارب یورو تک پہنچ گئیں، جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا تقریباً 0.7 فیصد بنتی ہیں۔ یہ شرح سال 2000 کے مقابلے میں تقریباً 0.5 فیصد پوائنٹ زیادہ ہے، جو گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اس رجحان میں نمایاں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران سپین سے بیرونِ ملک بھیجی جانے والی مجموعی رقوم کا تقریباً 60 فیصد لاطینی امریکا منتقل ہوا۔ سپین سے رقوم وصول کرنے والے دس بڑے ممالک میں سات لاطینی امریکی ممالک شامل ہیں، جن میں کولمبیا نمایاں مقام رکھتا ہے۔
صرف 2023 میں سپین سے لاطینی امریکا بھیجی جانے والی رقوم تقریباً 6.2 ارب یورو رہیں۔ ماہرین کے مطابق تارکینِ وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اپنے آبائی ممالک سے مضبوط خاندانی و معاشی روابط اس اضافے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
رقوم کی منتقلی میں اضافے نے مالیاتی ٹیکنالوجی اور منی ٹرانسفر کمپنیوں کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ امریکی کمپنی Remitly سمیت دیگر ڈیجیٹل مالیاتی ادارے تیز، آسان اور کم لاگت کے ذریعے رقوم بیرونِ ملک منتقل کرنے کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس بات کی واضح علامت ہے کہ سپین میں تارکینِ وطن کی موجودگی صرف لیبر مارکیٹ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات مالیاتی خدمات کے شعبے پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ ڈیجیٹل اور کم لاگت رقم منتقلی کی بڑھتی ہوئی طلب مستقبل میں اس کاروبار کو مزید وسعت دے سکتی ہے۔
