Screenshot
امریکا میں نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے ’فلاک کیمروں‘ (Flock Cameras) کے خلاف شہری تنظیموں اور متعدد مقامی حکومتوں کی جانب سے مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ کیمرے بنیادی طور پر گاڑیوں کی نمبر پلیٹس پڑھنے اور ان کی معلومات محفوظ کرنے کے لیے نصب کیے گئے تھے، تاہم مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے اب یہ گاڑیوں کی شناخت اور ان کی نقل و حرکت کا ریکارڈ رکھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
فلاک سیفٹی نامی کمپنی کے مطابق امریکا کی 49 ریاستوں میں ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد کیمرے نصب ہیں۔ یہ نظام میونسپلٹیوں اور شہروں کو سبسکرپشن کی بنیاد پر فراہم کیا جاتا ہے۔
ان کیمروں کی مصنوعی ذہانت گاڑی کے رنگ، ماڈل، اسٹیکرز، ڈینٹ اور دیگر ظاہری خصوصیات کا تجزیہ کر سکتی ہے۔ اگرچہ یہ چہرے کی بایومیٹرک شناخت نہیں کرتے، تاہم کیمروں کے نیٹ ورک کے ذریعے کسی شخص یا گاڑی کی نقل و حرکت کو دوبارہ تشکیل دیا جا سکتا ہے، چاہے وہ شخص یا گاڑی کسی تفتیش کا حصہ نہ ہو۔
ان کیمروں کے استعمال نے رازداری اور ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق خدشات پیدا کیے ہیں۔ ناقدین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جمع کی جانے والی معلومات تک کس کی رسائی ہے اور انہیں کس مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مخالفت اس وقت مزید بڑھ گئی جب پولیس اہلکاروں کے ایسے واقعات سامنے آئے جن میں مبینہ طور پر انہوں نے ان کیمروں کے ذریعے اپنی بیویوں یا سابق ساتھیوں کی نگرانی کی۔
سائبر سیکیورٹی ماہر ڈیوڈ سانز کے مطابق یہ نیٹ ورک بڑے پیمانے پر ویڈیو نگرانی کے نظام کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ AI کی مدد سے ایک کیمرے کے بجائے پورے نیٹ ورک میں مخصوص معلومات تلاش کی جا سکتی ہیں۔
پرائیویسی کے لیے کام کرنے والی تنظیم Secure Justice کے مطابق ورجینیا اور فلوریڈا میں ان کیمروں کے استعمال کو محدود کرنے کی تجاویز سامنے آئی ہیں، جبکہ 200 سے زائد مقامی علاقوں نے Flock Safety کے ساتھ اپنے معاہدے ختم کر دیے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اگست میں کہا تھا کہ وائٹ ہاؤس ان کیمروں کے معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔
