اسپین کے خودمختار علاقے کاتالونیا میں پولیس نے نوجوانوں کے 34 پُرتشدد گروہوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ایک ہزار سے زائد افراد کی شناخت کی ہے۔ حکام نے ان گروہوں کی سرگرمیوں کو روکنے اور انہیں مزید علاقوں میں پھیلنے سے بچانے کے لیے خصوصی منصوبہ شروع کر دیا ہے۔
کاتالونیا کی پولیس موسوس دے اسکوادرا کے مطابق ان گروہوں کے 400 سے 600 باقاعدہ ارکان کی شناخت ہو چکی ہے، جبکہ مزید تقریباً 500 افراد کے ان سے روابط ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ 80 فیصد جرائم سات بڑے گروہوں سے منسلک ہیں، جن میں بیریو 18، لوس 300، ٹرینیٹاریوس، لاطین کنگز، پی جی ایس، لوبوس اور مارا سالوا تروچا شامل ہیں۔ ان میں سے پہلے تین گروہ تشدد کے زیادہ تر واقعات میں ملوث پائے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ گروہ بارسلونا کے مختلف علاقوں، جن میں نو بارریس، لاساگریرا اور ایکسامپل شامل ہیں، کے علاوہ مونتکادا، مولیت، گرانویئرز اور لوسپیتالیت دے یوبریگات میں بھی سرگرم ہیں۔ چھوٹے گروہوں کی موجودگی لئیدا گیرونا اور تاراگونا میں بھی سامنے آئی ہے۔
حکام کے مطابق ان گروہوں میں بالغ افراد کے ساتھ کم عمر نوجوان بھی شامل ہیں۔ بعض گروہ 15 اور 16 سال کے نوعمروں کو اپنے ساتھ شامل کرتے ہیں اور انہیں مخالف گروہوں کے خلاف تشدد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کی سرگرمیوں میں منشیات کی اسمگلنگ، پرتشدد چوریاں، لڑائیاں اور غیر قانونی ہتھیار رکھنا شامل ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال 20 سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ تشویش ناک ہے، خصوصاً آتشیں اسلحے کے استعمال اور چرس کی تقسیم پر گروہوں کے درمیان تصادم کے باعث۔
اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے پولیس نے پلان پروآ (Pla Proa) متعارف کرایا ہے، جس کے تحت خفیہ معلومات جمع کرنے، جرائم کی روک تھام، تحقیقات اور مشتبہ سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کو مربوط کیا جائے گا۔ پولیس عوامی مقامات، پارکوں اور میٹرو اسٹیشنوں پر بھی نگرانی بڑھائے گی تاکہ موجودہ گروہوں کی سرگرمیوں کو محدود اور نئے گروہوں کے قیام کو روکا جا سکے۔
