میڈرڈ( 22 اکتوبر 2026 ترجمہ دوست نیوز)انسانی حقوق اور طبی امداد کے شعبے میں سرگرم بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم میڈیسنز سان فرونٹیئرز (ایم ایس ایف) نے جمعرات کے روز خبردار کیا ہے کہ بحیرۂ روم میں تارکین وطن کو لے جانے والی کشتیوں کے ڈوبنے کے واقعات نہ تو محض حادثات ہیں اور نہ ہی الگ تھلگ واقعات۔ تنظیم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تحفظ کی تلاش میں نکلنا کوئی جرم نہیں ہے۔
ایم ایس ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ تنظیم گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے یونان کے جزائر لیسبوس اور ساموس پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی مدد کر رہی ہے۔ ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو کشتیوں کے ڈوبنے کے واقعات میں زندہ بچ گئے۔ تنظیم کے مطابق، اس عرصے کے دوران اسے سمندر میں تشدد کے بار بار پیش آنے والے واقعات اور ان کے تباہ کن نتائج کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس تشدد کی ایک بڑی وجہ ایسی پالیسیاں ہیں جو تارکین وطن کے لیے خطرات میں اضافہ کرتی ہیں۔
تنظیم نے مزید بتایا کہ اس کے زیرِ علاج متعدد افراد نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں سمندر میں زبردستی واپس دھکیلنے، تیز رفتاری سے تعاقب کرنے، خطرناک انداز میں کشتیوں کو گھیرنے اور غیر محفوظ طریقے سے روکنے جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایم ایس ایف کے مطابق، ان کارروائیوں کے نتیجے میں بعض کشتیوں کے ڈوبنے اور لوگوں کے غرق ہونے کے واقعات پیش آئے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ کئی تارکین وطن نے یونان پہنچنے سے پہلے متعدد مرتبہ سمندر عبور کرنے کی کوشش کی تھی۔
یونان میں اقوام متحدہ کے رابطہ کار فابریزیو اینڈریولو نے بھی زور دیا ہے کہ یورپی یونین کی ہجرت اور سرحدی نگرانی سے متعلق پالیسیاں انسانی زندگی اور وقار کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ ان کے مطابق، تمام اقدامات انسانی حقوق اور بین الاقوامی بحری قوانین کے مطابق ہونے چاہییں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل یونان کے ساحل کے قریب دو کشتیوں کے ڈوبنے سے بارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے، جن میں ایک شیرخوار بچہ بھی شامل تھا۔
