اٹلی: ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ٹرک ڈرائیوروں کے احتجاج نے اٹلی میں غذائی اشیا اور ایندھن کی فراہمی کا نظام متاثر کر دیا ہے۔ جنوبی اٹلی کے متعدد علاقوں میں سپر مارکیٹوں کی شیلفیں خالی ہونے لگی ہیں، جبکہ بعض ہوائی اڈوں پر طیاروں کے لیے ایندھن کی قلت بھی پیدا ہوگئی ہے۔ اس بحران نے وزیرِاعظم جارجیا میلونی کی حکومت کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔
سِسلی میں زُوکینی اور بینگن جیسی سبزیاں گوداموں میں جمع ہو رہی ہیں، لیکن انہیں منڈیوں تک پہنچانا ممکن نہیں رہا۔ کیمپانیا میں بھینسوں کا دودھ ڈیری کارخانوں تک نہ پہنچنے کے باعث موزریلا پنیر بنانے والی متعدد فیکٹریاں بند ہوگئی ہیں۔ دودھ کو 60 گھنٹوں کے اندر پراسیس کرنا ضروری ہوتا ہے، ورنہ اس کے خراب ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ زرعی تنظیم لیگاکوپ ایگروالیمینتارے کے مطابق، صرف زرد کیوی کے شعبے کو پانچ دنوں میں تقریباً تین کروڑ یورو کا نقصان پہنچنے کا تخمینہ ہے۔
احتجاج کے باعث سڑکوں، موٹرویز اور لاجسٹک مراکز کی ناکہ بندی کی گئی ہے، جس سے خوراک، ایندھن اور صنعتی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ اٹلی کی مشہور پاستا کمپنیوں رمّو اور لا مولیزانا کا کام بھی متاثر ہوا ہے۔ کئی پیٹرول پمپوں پر پٹرول کی قلت ہے، جبکہ کروٹونے اور ریجو کالابریا کے ہوائی اڈوں پر طیاروں کا ایندھن ختم ہوگیا ہے۔ نیپلز کے ہوائی اڈے پر بھی ایندھن بھرنے پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔
وزیرِاعظم میلونی نے جمعرات کو کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے، جس میں ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے لیے نئی مالی امداد کی منظوری متوقع ہے۔ وزیرِ ٹرانسپورٹ ماتیو سالوینی نے پہلے ہی تقریباً 48 کروڑ یورو کے زیرِ التوا فنڈز جاری کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ مجموعی امدادی پیکیج ایک ارب یورو سے تجاوز کرسکتا ہے۔
دوسری جانب حکومت کو خدشہ ہے کہ بعض ناکہ بندیوں میں منظم جرائم پیشہ گروہ بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ وزیرِ انصاف کارلو نورڈیو نے خبردار کیا ہے کہ مافیا ان احتجاجی مظاہروں سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ پولیس نے اب تک 1,339 افراد کی شناخت کی، 71 افراد کے خلاف شکایات درج کیں اور ضروری اشیا لے جانے والے ٹرکوں کی حفاظت کے لیے انتظامات کیے ہیں۔
اگلے سال عام انتخابات متوقع ہیں، اس لیے خالی سپر مارکیٹیں میلونی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن سکتی ہیں۔
