یورپی سرحدوں پر تین ماہ سے جاری کشیدگی کا خاتمہ، دونوں ممالک کے وزرائے داخلہ کا سرحدی کنٹرول میں توسیع نہ کرنے پر اتفاق
روم( 22 اکتوبر 2026 دوست نیوز) اسپین اور اٹلی کے درمیان تقریباً تین ماہ سے جاری سفارتی تنازع بالآخر ختم ہوگیا ہے۔ دونوں ممالک کی حکومتوں نے شینگن زون میں آزادانہ نقل و حرکت کو جزوی طور پر محدود کرنے والے سرحدی کنٹرول میں مزید توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت ہجرت کے بحران اور یورپی سرحدوں کی سیکیورٹی کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد سامنے آئی ہے۔
اسپین کے وزیر داخلہ فرنیندو گراندے مارلاسکا اور اٹلی کے وزیر داخلہ ماتّیو پیانتیدوسی کے درمیان جمعرات کو ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے سرحدی پابندیاں مزید برقرار نہ رکھنے پر اتفاق کیا۔ یہ فیصلہ گزشتہ ہفتے برسلز میں یورپی کونسل کے اجلاس کے موقع پر اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز اور اطالوی وزیراعظم جورجیا میلونی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں طے پانے والے سیاسی سمجھوتے کے مطابق کیا گیا۔
اطالوی وزارت داخلہ کے مطابق، دونوں ممالک اب یورپی علاقے میں سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے معلومات کے تبادلے اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط کریں گے۔
اس تنازع کی بنیادی وجہ شمالی افریقی علاقے سبتہ (سیوتا) میں ہجرت کا بحران تھا۔ اٹلی نے اس صورت حال کو جواز بناتے ہوئے سرحدی کنٹرول دوبارہ نافذ کیا تھا، جس پر اسپین نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ تاہم، تقریباً تین ماہ کے دوران ان پابندیوں کے نتیجے میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی بہت کم نشاندہی ہوئی اور دستیاب معلومات کے مطابق ان میں سے کوئی بھی سبتہ سے نہیں آیا تھا۔
15 اور 16 اکتوبر کو برسلز میں ہونے والی یورپی کونسل کی نشست کے دوران سانچیز اور میلونی نے ذاتی طور پر بات چیت کرکے اپنے وزرائے داخلہ کو مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی تھی۔
اس فیصلے کے پیچھے سیاسی عوامل بھی کارفرما تھے۔ میلونی حکومت نہیں چاہتی تھی کہ اسپین کے ساتھ جاری تنازع سانچیز کو انتخابی مہم میں سیاسی فائدہ پہنچائے۔ میلونی کے ووکس پارٹی کے رہنما سانتیاگو اباسکل کے ساتھ قریبی سیاسی تعلقات بھی اس معاملے میں اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
سرحدی پابندیوں کا خاتمہ دونوں ممالک کے درمیان ہجرت سے متعلق اختلافات ختم نہیں کرتا، تاہم اس سے سفارتی تعلقات میں بہتری کی راہ ہموار ہوگی۔ اب ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر سخت کنٹرول کے بجائے پولیس تعاون اور معلومات کے تبادلے پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔
