اسرائیل میں منگل، 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے اسپین میں مقیم متعدد اسرائیلی شہری خصوصی طور پر اپنے ملک پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے باعث تبدیلی ضروری ہو چکی ہے اور ووٹ ڈالنے کے لیے سفر کرنا ان کی قومی ذمہ داری ہے۔
اسرائیلی خاتون تزویہ روبن اپنے تین بچوں کے ہمراہ اسپین سے اسرائیل پہنچی ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی قیادت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک کے حالات خراب ہوئے ہیں اور اب تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اندازوں کے مطابق بیرونِ ملک مقیم تقریباً 80 ہزار اسرائیلی شہری انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اپنے وطن واپس آئے ہیں، جن میں اکثریت کی حمایت اپوزیشن کے ساتھ بتائی جا رہی ہے۔
اسرائیل ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں بیرونِ ملک مقیم شہریوں کو عام طور پر ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں، اس لیے انہیں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے لیے ذاتی طور پر اسرائیل آنا پڑتا ہے۔ بیرونِ ملک مقیم اسرائیلیوں کی تعداد تقریباً دس لاکھ بتائی جاتی ہے۔ موجودہ انتخابات میں نیتن یاہو کے حامی اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔ ان 80 ہزار ووٹوں سے پارلیمان کی 120 نشستوں میں سے دو نشستوں تک کے نتائج متاثر ہو سکتے ہیں۔
روبن کے بیٹے اوفر لازیوِکی کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک رہنے والے اسرائیلی شہریوں کے لیے ووٹ ڈالنے کا یہی واحد راستہ ہے۔ ان کے مطابق نیتن یاہو کے حامی ووٹر منظم اور متحرک ہیں، اس لیے تبدیلی کے خواہش مند افراد کے لیے ضروری تھا کہ وہ خود اسرائیل پہنچ کر ووٹ ڈالیں۔
اوفر کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر اپوزیشن کامیاب نہ ہوئی تو مستقبل میں جمہوری انتخابات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت کے بعض اقدامات سے عدلیہ کی آزادی محدود ہوئی ہے اور حکومتی وزرا بھی جمہوری نظام میں تبدیلیوں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔
اسرائیل میں 35 سال سے مقیم نہ ہونے کے باوجود اسپین میں رہنے والے ان کے بھائی آساف نے بھی اس مرتبہ ووٹ ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے مستقبل کے لیے ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
دوسری جانب اسپین کے شہر تولیدو میں مقیم 25 سالہ بین اویدار نے بھی اپنا ووٹ اپوزیشن کے حق میں ڈالا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ انتخابات میں نیتن یاہو کی حمایت کی تھی، لیکن سات اکتوبر کے حملوں کے بعد وزیراعظم کی خارجہ پالیسی اور عالمی تعلقات سے متعلق حکمت عملی سے مایوس ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیلی حکومت دنیا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث بیرونِ ملک اسرائیلی شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
