زراگوزا/اسپین کی قومی پولیس نے سوشل میڈیا پر ’پیراسیٹامول‘ کے نام سے مشہور ایک انسٹاگرامر کو اپنے گانوں اور ویڈیوز میں تارکینِ وطن، بیمار افراد اور ہم جنس پرستوں کی تضحیک اور توہین کرنے والے پیغامات پھیلانے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق، اس شخص کی شناخت کے لیے کئی ماہ سے تحقیقات جاری تھیں۔
ہسپانوی میڈیا کے مطابق، گرفتار شخص کی عمر 46 سال ہے اور وہ زراگوزا کے علاقے تورّیرو میں رہتا ہے۔ وہیں سے وہ اپنی ویڈیوز ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتا تھا۔ اس کے خلاف نفرت پر اکسانے کے شبہے میں کارروائی کی گئی ہے۔
تحقیقات کا آغاز گزشتہ جون میں ہوا، جب اس کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے لگیں۔ پولیس کی رپورٹ کے مطابق، وقت کے ساتھ اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور ہزاروں صارفین اس کے گانوں کو اپنے اکاؤنٹس پر شیئر کرنے لگے۔ انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر اس کے مجموعی فالوورز کی تعداد تقریباً ایک لاکھ تک پہنچ چکی تھی، اگرچہ نامناسب مواد کے باعث اس کے بعض اکاؤنٹس بند بھی کیے جا چکے ہیں۔
شناخت ہونے کے بعد قومی پولیس نے زراگوزا پہنچ کر اسے گرفتار کیا اور پوچھ گچھ کی۔ تاہم، اس نے بیان دینے سے انکار کرنے کے اپنے قانونی حق کا استعمال کیا، جس کے بعد اسے عبوری طور پر رہا کر دیا گیا۔
اب اسے زراگوزا کی عدالت سے طلبی کا نوٹس موصول ہوا ہے۔ اسے آئندہ جنوری میں جج کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔ عدم پیشی کی صورت میں اس کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، جرم ثابت ہونے پر اسے چار سال تک قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مذکورہ انسٹاگرامر اپنے انسٹاگرام پروفائل پر مواد کو مزاحیہ قرار دیتا تھا، لیکن پولیس کے مطابق اس کی ویڈیوز میں اقلیتی گروہوں کو مسلسل نشانہ بنایا جاتا تھا۔ اس کی بعض ویڈیوز پانچ لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھی جا چکی ہیں اور اسپین کے معروف انٹرنیٹ شخصیات کے لائیو پروگراموں میں بھی دکھائی گئی ہیں۔
پولیس رپورٹ کے مطابق، اس نے سابق وزیر برائے مساوات اور پوڈیموس کی رہنما آئرین مونتیرو کے بارے میں بھی ایک ویڈیو شائع کی تھی، جس میں ان کے خلاف انتہائی توہین آمیز اور دھمکی آمیز الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔
تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ اس اشاعت میں نظریاتی بنیادوں پر نفرت انگیزی کا پہلو بھی موجود ہو سکتا ہے۔ تاہم، مقدمے کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔
