بارسلونا: کرایہ داروں کی یونینوں کی کنفیڈریشن، صارفین کی تنظیم فاکوا (FACUA) اور جستیسیا الیمینتاریا (Justícia Alimentària) سمیت متعدد تنظیموں نے سپر مارکیٹوں، بڑی تجارتی دکانوں اور فوڈ چینز کے بائیکاٹ کے لیے ’’صارفین کی ہڑتال‘‘ کا اعلان کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف احتجاج اور 11 نومبر کو ہونے والی عام ہڑتال کے لیے عوام کو متحرک کرنا ہے۔
تنظیموں کے مطابق، قومی ادارۂ شماریات (INE) کے اعداد و شمار کی بنیاد پر 2019 سے اب تک بنیادی اشیائے ضروریہ کی خریداری کی لاگت میں اوسطاً 40 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ اسی عرصے میں تنخواہوں میں صرف 21.9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کے بقول، اس فرق نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہے۔
تنظیموں نے اپیل کی ہے کہ بدھ، 28 اکتوبر سے ہر بدھ کو بڑی سپر مارکیٹوں اور تجارتی چینز سے خریداری نہ کی جائے، بلکہ شہری بلدیاتی مارکیٹوں، محلے کی دکانوں، کوآپریٹو اداروں اور مقامی غذائی پیداوار کرنے والوں سے اشیا خریدیں۔
تنظیموں نے 11 نومبر کی عام ہڑتال کے روز عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی خریداری نہ کریں، خواہ وہ دکانوں سے ہو یا آن لائن۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بڑی کمپنیوں کے منافع اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف آواز اٹھانا ہے، نہ کہ بڑی چینز کے ملازمین یا چھوٹے تاجروں کو نقصان پہنچانا۔ چھوٹے کاروباروں کو بھی اس احتجاج میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔
کرایہ داروں کی یونین کے ترجمان آلدو ریورتے نے کہا کہ رہائش کے اخراجات اور مہنگائی لوگوں کی آمدنی کو نگل رہے ہیں، جبکہ چند بڑی کمپنیاں ریکارڈ منافع کما رہی ہیں۔
جستیسیا الیمینتاریا کے ڈائریکٹر خاویر گوزمان نے کہا کہ خوراک کوئی عیش و عشرت نہیں بلکہ بنیادی حق ہے۔ ان کے مطابق قیمتوں میں کمی کا بوجھ کسانوں اور پیداواری شعبے پر ڈالنے کے بجائے بڑی تقسیم کار کمپنیوں کے منافع سے پورا کیا جانا چاہیے۔
فاکوا کے سیکریٹری جنرل روبین سانچیز نے بھی مطالبہ کیا کہ صارفین کو بتایا جائے کہ کسانوں کو ان کی پیداوار کے کتنے پیسے ملتے ہیں اور بڑی کمپنیوں کے پاس کتنا منافع رہتا ہے۔ انہوں نے بڑی تجارتی زنجیروں کے منافع کی شرح پر حد مقرر کرنے کی حمایت کی۔
