میڈرڈ: (20 اکتوبر 2026 ترجمہ دوست نیوز)اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں ایک مذہبی اسکول کے 37 سالہ سابق استاد کو کم از کم 10 کم عمر طلبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات کے تحت گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے۔ متاثرہ بچوں کی عمریں 12 سے 15 سال کے درمیان ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزم 16 اکتوبر سے ضمانت کے بغیر عبوری حراست میں ہے۔
ہسپانوی اخبار ایل پائیس کے مطابق ملزم میڈرڈ کے مرکز میں واقع مذہبی تعلیمی ادارے مرسیداریاس دے دون خوان دے الارکون (Mercedarias de Don Juan de Alarcón) میں تدریسی فرائض انجام دیتا تھا۔ یہ ادارہ ابتدائی تعلیم سے لے کر بیچلر سطح تک تعلیم فراہم کرتا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم کو گزشتہ 13 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے خلاف 16 سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے متعدد مسلسل جرائم، دیگر کم عمر متاثرین کے ساتھ جنسی زیادتی، بچوں کی جسم فروشی، بچوں سے متعلق فحش مواد اور بچوں کو جنسی مقاصد کے لیے آن لائن یا دیگر ذرائع سے ورغلانے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
تحقیقات کا آغاز اس وقت ہوا جب طلبہ نے اپنے موجودہ اساتذہ کے سامنے مبینہ واقعات سے متعلق باتیں بیان کیں۔ پولیس نے ملزم کو حراست میں لینے کے بعد خاندان اور نابالغ بچوں سے متعلق جرائم کی تحقیقات کرنے والے خصوصی یونٹ میں منتقل کیا، جہاں اس سے تفتیش کی گئی۔ بعد ازاں اسے عدالت میں پیش کیا گیا، جس نے اسے ضمانت کے بغیر عبوری طور پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔
پولیس کے مطابق مبینہ واقعات اسکول کی عمارت کے اندر اور اس سے باہر بھی پیش آئے۔ کم از کم 10 متاثرین کی نشاندہی ہو چکی ہے، جبکہ مزید ممکنہ متاثرین کے بارے میں بھی تحقیقات جاری ہیں۔
تفتیش کے دوران ملزم کی رہائش گاہ سے متعدد موبائل فون، لیپ ٹاپ اور ڈیجیٹل ڈیٹا محفوظ کرنے والے آلات قبضے میں لیے گئے ہیں، جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اسکول رواں سال اپنی 125ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ متعلقہ مذہبی تنظیم کے اسپین میں چھ دیگر اسکول بھی ہیں۔ پولیس کی تحقیقات تاحال جاری ہیں اور ملزم پر عائد الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔
