بارسلونا: بارسلونا کی سابق میئر اور کومونس کی رہنما ادا کولاؤ کے طرزِ زندگی سے متعلق ایک رپورٹ نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ہسپانوی میڈیا کے مطابق، کولاؤ نے حال ہی میں مالی مشکلات کے باعث اپنا گھر چھوڑنے اور ایک تنخواہ پر کرایہ ادا کرنے میں دشواری کا ذکر کیا تھا، تاہم اب ان کے مہنگے ہوٹل میں قیام اور ریستورانوں میں کھانے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
29 ستمبر کو ٹی وی پروگرام کافے دے ایدیس میں گفتگو کرتے ہوئے ادا کولاؤ نے بتایا تھا کہ وہ 15 سال سے زائد عرصے تک رہنے والا مکان چھوڑ چکی ہیں۔ ان کے مطابق، علیحدگی کے بعد ایک تنخواہ پر گھر کا کرایہ ادا کرنا اور اپنے دو بچوں کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا تھا، جس کے باعث انہیں ایک رشتہ دار کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔
اخبار کرونیکا گلوبل کی رپورٹ کے مطابق، کولاؤ نے 8 اگست کے اختتامِ ہفتہ اپنے ساتھی کے ہمراہ ایل ایسکالا میں واقع چار ستارہ ہوٹل ہوسٹال اسپائے ایمپوریئس میں ایک رات گزاری۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیاحتی موسم میں ہوٹل کے کمرے کا کرایہ تقریباً 300 یورو فی رات ہوتا ہے۔ اسی ہوٹل میں ایلون مسک کے قیام کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ہوٹل کے ریستوران بسٹرو دے مار میں دو افراد کے عشائیے کا بل 144.50 یورو تھا، جس کی ادائیگی مبینہ طور پر کولاؤ نے کی۔ کھانے میں سرخ جھینگے اور جنگلی سی باس مچھلی شامل تھی۔ اخبار نے فیگیرس کے ریستوران ایل موٹیل میں بھی ان کے کھانے کا ذکر کیا، تاہم اس کے اخراجات نہیں بتائے۔
ان تفصیلات کے بعد کولاؤ کے مالی مشکلات سے متعلق بیان پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تاہم ہوٹل کی مکمل رقم کی ادائیگی کے حوالے سے ان کے نام پر کوئی رسید شائع نہیں کی گئی، جبکہ متعلقہ فریقوں کی جانب سے بھی کوئی جامع وضاحت سامنے نہیں آئی۔
یہ معاملہ سیاسی رہنماؤں کے طرزِ زندگی، عوامی بیانات اور سیاسی ساکھ سے متعلق بحث کو مزید تقویت دے رہا ہے۔
