ماحولیاتی تنظیم کا فضائی آلودگی پر تشویش کا اظہار، کاتالونیا حکومت سے مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ
کاتالونیا میں 2026 کے دوران زمینی سطح پر اوزون کی آلودگی 2010 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ماحولیاتی تنظیم ’ایکولوجیستاس این ایکسیون‘ نے صورتِ حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کاتالونیا حکومت سے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تنظیم کی رپورٹ کے مطابق، یورپی یونین کے 2030 کے لیے مقرر کردہ نئے معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے 2024 سے 2026 کے تین سالہ عرصے میں کاتالونیا کے تقریباً 23 لاکھ افراد، یعنی 28 فیصد آبادی، اوزون سے آلودہ ہوا سے متاثر ہوئی۔ 2012 سے 2019 کے دوران قانونی ہدف سے تجاوز کی اوسط کے مقابلے میں 2026 میں یہ شرح 53 فیصد زیادہ رہی۔
رپورٹ کے مطابق، غیر معمولی گرمی، گرم موسمِ بہار، شدید گرمی کی چار طویل لہروں اور جولائی و اگست میں جنگلاتی آگ کے متعدد واقعات نے اوزون کی تشکیل اور فضا میں اس کے جمع ہونے کے لیے سازگار حالات پیدا کیے۔ یہ صورتِ حال عالمی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بھی منسلک ہے۔
مغربی پیرینیز، ویلیس، بائکس لوبریگات، مارسمے اور کیمپ ڈی تاراگونا کے علاقوں میں آلودگی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رواں موسمِ گرما میں عوام کو خبردار کرنے کی مقررہ حد 124 مرتبہ عبور ہوئی، جو گزشتہ دو دہائیوں کی بلند ترین تعداد ہے۔ بادالونا میں 9 جولائی کو خطرے کی حد بھی دو مرتبہ تجاوز کر گئی۔
عالمی ادارۂ صحت کے تجویز کردہ سخت معیار کے مطابق 2026 میں کاتالونیا کی پوری آبادی اوزون کی آلودگی سے متاثر ہوئی۔ یورپی ماحولیاتی ایجنسی کے مطابق، یہ آلودگی کاتالونیا میں ہر سال 2,000 اموات کا سبب بن سکتی ہے۔
تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹریفک میں کمی، صنعتی آلودگی پر قابو پانے، توانائی کی بچت اور فضائی معیار کے منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد کے ذریعے عوام کی صحت کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ رپورٹ کے مطابق، اوزون کی آلودگی بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور دل و پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے خصوصی خطرہ ہے۔
