اٹلی کے شہر پسٹویا کے ایک سابق میاں بیوی کا معاملہ عدالت پہنچ گیا، بیوی کا مؤقف ہے کہ شوہر کے رویے کے باعث وہ ماں بننے کے حق سے محروم رہی۔
اٹلی کے شہر پسٹویا میں ایک خاتون نے اپنے سابق شوہر کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے 50 ہزار یورو ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ خاتون کا الزام ہے کہ شوہر نے طویل ازدواجی زندگی کے بعد انکشاف کیا کہ وہ ہم جنس پرست ہے اور اسے ایک دوسرے مرد سے محبت ہوگئی ہے۔ اس وقت تک دونوں کے درمیان طلاق ہو چکی تھی، جبکہ فلورنس کی عدالت میں مقدمے کی کارروائی جاری رہی۔
اطالوی اخبار کورئیرے ڈیلا سیرا کے مطابق، دونوں کی ملاقات بیرون ملک ہوئی تھی اور ان کے درمیان محبت کا رشتہ قائم ہوگیا۔ 1990 کی دہائی کے اواخر میں دونوں نے شادی کرلی اور اٹلی کے علاقے توسکانا میں رہائش اختیار کرلی۔ تاہم، اولاد کے معاملے پر دونوں کے مؤقف مختلف تھے۔
خاتون کے مطابق، وہ ماں بننے اور خاندان کو آگے بڑھانے کی خواہش رکھتی تھیں، لیکن شوہر اس معاملے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتا رہا۔ انہوں نے بیرون ملک جا کر بیضے محفوظ کرنے کے طریقوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور زرخیزی بڑھانے کے لیے طبی علاج بھی کروایا، مگر کامیابی نہ مل سکی۔
خاتون کا کہنا ہے کہ انہوں نے شوہر کو مصنوعی طریقے سے حمل ٹھہرانے کے لیے آئی وی ایف کا مشورہ بھی دیا، لیکن اس نے اپنا مادۂ تولید فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ ان کے بقول، اس رویے نے انہیں ماں بننے کے حقیقی موقع سے محروم کردیا۔
خاتون کے مطابق، 2019 میں شوہر نے بتایا کہ وہ ایک دوسرے مرد سے محبت کرنے لگا ہے اور اسی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ اس انکشاف کے بعد خاتون نے مالی، جسمانی اور نفسیاتی نقصان کے ازالے کے لیے 50 ہزار یورو ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد وہ ڈپریشن سمیت مختلف طبی مسائل کا شکار ہوئیں۔
دوسری جانب، شوہر نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی ازدواجی زندگی پہلے ہی کئی برسوں سے مشکلات کا شکار تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے جنسی تعلق قائم کرنے یا بچہ پیدا کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ طلاق کے بعد مقدمے کا موضوع باقی نہیں رہا، تاہم فریقین نے عدالت میں اپنے اپنے مؤقف پیش کیے۔
