اسپین میں غربت کے شکار افراد کے خلاف تعصب اور امتیازی رویوں سے متعلق ایک نئے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً نصف ہسپانوی شہری سمجھتے ہیں کہ غریب لوگ اپنی حالت بہتر بنانے کی کوشش کرنے کے بجائے سرکاری امداد پر انحصار کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ سروے کے مطابق 50.4 فیصد افراد کا خیال ہے کہ غریب لوگ امداد پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ 43 فیصد سمجھتے ہیں کہ وہ عوامی امدادی پروگراموں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔
یہ سروے رامون لُل یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام غربت سے متعلق تعصب کے تحقیقی ادارے اپورولاب نے تیار کیا ہے، جس میں 6 ہزار افراد نے آن لائن حصہ لیا۔ رپورٹ جمعرات کو غربت کے شکار افراد کے خلاف امتیازی رویوں سے متعلق سالانہ کانفرنس کے موقع پر پیش کی گئی۔
سروے کے مطابق 10.8 فیصد افراد غربت کو سستی یا اخلاقی اصولوں کی کمی سے جوڑتے ہیں، جبکہ 33.1 فیصد کا خیال ہے کہ غریب افراد عوامی وسائل پر بوجھ ہیں۔ مزید یہ کہ 12 فیصد افراد بے گھر لوگوں کو بار اور تجارتی مراکز میں داخل ہونے سے روکنے کی حمایت کرتے ہیں۔ 15.4 فیصد نے کہا کہ اگر کوئی بے گھر شخص پبلک ٹرانسپورٹ میں ان کے ساتھ بیٹھے تو وہ اپنی نشست تبدیل کر سکتے ہیں۔
رپورٹ میں نوجوانوں کے رویوں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ 18 سے 24 سال کی عمر کے 27.7 فیصد افراد نے کہا کہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ میں بے گھر شخص کے ساتھ بیٹھنے پر اپنی جگہ تبدیل کر سکتے ہیں، جبکہ 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں یہ شرح صرف 8.6 فیصد ہے۔
سیاسی نظریات کے لحاظ سے بھی نمایاں فرق سامنے آیا۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد میں غربت کو سستی یا اخلاقی کمزوری سے جوڑنے کا رجحان بائیں بازو کے حامیوں کے مقابلے میں تقریباً 3.8 گنا زیادہ پایا گیا۔
ماہرین کے مطابق معاشی اور سماجی عدم مساوات، رہائش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور لوگوں کے درمیان رابطوں میں کمی اس تعصب کی اہم وجوہات ہو سکتی ہیں۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ غربت کسی شخص کے کردار یا اخلاقی حیثیت کا تعین نہیں کرتی۔
