کاتالان جماعتوں کا البیول پر نفرت پھیلانے اور بے گھر افراد کے معاملے پر “تماشا” کرنے کا الزام

Screenshot

Screenshot

بارسلونا(دوست نیوز)کاتالونیا کی بیشتر سیاسی جماعتوں نے بادالونا کے میئر ژاویر گارسیا البیول کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ گزشتہ ہفتے شہر کے ایک پرانے تعلیمی ادارے سے بے دخل کیے گئے سینکڑوں بے گھر افراد کو لاوارث چھوڑ دیا گیا اور اس پوری صورت حال کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا۔

ایسکیرا ریپبلکانا (ERC) کے ترجمان آئزک البرت نے پی پی سے تعلق رکھنے والے میئر پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے “غربت کی حالت” کو ایک “شو” میں بدل دیا ہے اور ان کی اولین ترجیح اس بے دخلی سے “سیاسی فائدہ” حاصل کرنا ہے۔ البرت کے مطابق گارسیا البیول کا طرزِ عمل “قابلِ مذمت” ہے۔ سوشلسٹ پارٹی (PSC) نے بھی اس رائے کی تائید کی کہ اس معاملے میں “خاموش اور سنجیدہ انتظام” کی ضرورت تھی، نہ کہ میڈیا میں نمایاں ہونے کی کوشش۔

ادھر کومنس پارٹی کا کہنا ہے کہ میئر نے مختلف محلوں میں بے گھری کے مسئلے کو پھیلایا اور “نفرت کو ہوا دی”۔ پرانے انسٹی ٹیوٹ B9 سے بے دخلی کا فیصلہ البیول کے لیے ایک طرح کا بومرینگ ثابت ہوا۔ میئر نے مہاجرین کے انخلا کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کیا، تاہم اس امکان کو نظرانداز کر دیا کہ بے گھر افراد پناہ کے لیے شہر کے دیگر مقامات کا رخ کریں گے۔

میئر نے بدھ کے روز بے دخلی کا جشن مناتے ہوئے آئندہ پیدا ہونے والی صورتحال کی ذمہ داری لینے سے انکار کیا اور کہا: “پیدرو سانچیز کہتے ہیں کہ ہمیں سب کو قبول کرنا چاہیے، تو اب ان ہی کی ذمہ داری ہے کہ انہیں رہائش فراہم کریں۔” بے دخل کیے گئے افریقی نژاد مہاجرین میں سے ایک گروہ گزشتہ چند دنوں سے کان بوفی ویل نامی ایک میونسپل شیلٹر میں مقیم ہے، جو بے گھر افراد کے لیے تھا اور گزشتہ سال، البیول ہی کے دورِ حکومت میں بند کر دیا گیا تھا۔

جونتس کی بادالونا شاخ نے کہا ہے کہ “مسئلہ ختم نہیں ہوتا، صرف محلہ بدل لیتا ہے”، اور ساتھ ہی اس بات کی نشاندہی کی کہ پی پی نے ہجرت کے اختیارات جنرالیتات آف کاتالونیا کو منتقل کرنے کی مخالفت کی تھی۔

کومنس کی مقامی ترجمان آئیدہ لیورادو نے پارٹی کی کوآرڈینیٹر کیندلا لوپیز کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا: “وہ کمزور ترین طبقوں کے خلاف تو بہت بہادر ہیں، مگر اپنی ہی شہر کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔” ان کے مطابق یہ ادارہ جاتی نسل پرستی کی ایک مثال ہے اور پی پی انتہائی دائیں بازو کے خلاف اپنی لڑائی میں مہاجرین کو نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

ای آر سی کے ترجمان آئزک البرت نے بھی کہا کہ “کسی میئر کی جانب سے اس طرح کی غیر انسانی روش قابلِ قبول نہیں”، اور ساتھ ہی جنرالیتات کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت کرے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے