انسانیت اور یکجہتی کے بغیر نہ کوئی ملک بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی معاشرہ ،کاتالان صدر کا کرسمس خطاب

Screenshot

Screenshot

بارسلونا(دوست نیوز) کاتالونیا کے صدر سالوادور ایلا نے جمعہ کے روز سینٹ اسٹیفن ڈے (سانت اِستیوے) کے موقع پر اپنے ٹیلی وژن کرسمس خطاب میں انسانیت، ہمدردی اور یکجہتی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

پانچ منٹ پر مشتمل کاتالان زبان میں خطاب کے آغاز پر صدر ایلا نے کہا کہ کرسمس ایک خاص موقع ہے۔ ان کے بقول، “ہم میں سے اکثر ایک مشترکہ خواب میں جڑے ہوتے ہیں کہ ہم ایک دسترخوان پر جمع ہوں، اپنے گھروں کے دروازے کھولیں اور دوسروں کی مدد کریں۔”

انہوں نے کہا کہ ہمدردی، یکجہتی اور ذمہ داری کاتالونیا کے طرزِ زندگی کی بنیادی اقدار ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ بات شمالی بارسلونا کے شہر بادالونا کی حالیہ صورتحال کی جانب اشارہ سمجھی جا رہی ہے، جہاں گزشتہ ہفتے ایک پرانے اسکول سے درجنوں مہاجرین کو بے دخل کیا گیا۔

صدر ایلا نے کہا کہ کرسمس کا تہوار ہمیں ان انسانی اقدار کی یاد دہانی کراتا ہے جنہیں کسی صورت کھونا نہیں چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا، “اگر انسانیت نہ ہو تو ہمارے پاس کیا بچتا ہے؟” اور کہا کہ انسانیت کا مطلب ضرورت مندوں کو خوش آمدید کہنا اور انہیں معاشرے میں شامل کرنا ہے۔ ان کے مطابق قانون کی حکمرانی کا دفاع، معیاری سرکاری تعلیم اور صحت کی سہولیات کی ضمانت، رہائش کو حق کے طور پر تسلیم کرنا اور سماجی مدد فراہم کرنا بھی انسانیت کا حصہ ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ انسانیت اور یکجہتی کے بغیر نہ کوئی ملک بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی معاشرہ۔

صدر ایلا نے جولائی میں لگنے والی دو بڑی جنگلاتی آگ، جن میں تین افراد ہلاک ہوئے، اور جنوبی کاتالونیا کے علاقے تیریس دے لِے برای میں آنے والے سیلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان بحرانوں میں ہمدردی، یکجہتی اور اجتماعی ذمہ داری نے کلیدی کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ کاتالونیا کو درپیش مسائل اور چیلنجز کا حل یہ نہیں کہ کمزور یا مختلف لوگوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔ یہ بیان دائیں بازو کی انتہاپسند قوتوں کی بڑھتی ہوئی حمایت کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

خطاب کے دوران صدر ایلا نے حالیہ لَمپی اسکن بیماری کے کیسز اور افریقی سوائن فیور کے پھیلاؤ کا بھی ذکر کیا، جو 31 سال بعد 2025 کے اواخر میں پہلی بار سامنے آیا ہے۔

آخر میں انہوں نے ایمرجنسی سروسز کے اہلکاروں اور دیگر سرکاری ملازمین کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کا اعتماد، مقصد اور وابستگی اس بات کی مثال ہے کہ موجودہ عالمی چیلنجز کا سامنا کس طرح کیا جانا چاہیے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے