اسپین میں رہائشی اخراج: 65 برس سے زائد عمر کے افراد سب سے زیادہ متاثر، تحقیق
Screenshot
اسپین میں بزرگ افراد کو درپیش ایک سنگین مسئلہ سامنے آیا ہے۔ ایک تازہ تحقیق کے مطابق 65 برس سے زائد عمر کے افراد رہائشی اخراج سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات میں شامل ہیں۔ اگرچہ ملک میں زیادہ تر بزرگ اپنے ہی گھروں میں بڑھاپا گزار رہے ہیں، مگر ان میں سے بڑی تعداد کی رہائش گاہیں ان کی عمر اور ضروریات کے مطابق موزوں نہیں ہیں۔
یہ انکشاف ادارہ پروویویندا کی رپورٹ “ہمارے مستقبل کی کنجی: کمیونٹی میں رہائش اور بڑھاپا” میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کم ہوتی شرحِ پیدائش اور بڑھتی ہوئی اوسط عمر نے آبادی کے ڈھانچے کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔
اسپین یورپی یونین کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں متوقع عمر سب سے زیادہ ہے، جو 84 سال تک پہنچ چکی ہے، جبکہ یورپی یونین کے 27 ممالک کی اوسط 81.7 سال ہے۔ تاہم رپورٹ واضح کرتی ہے کہ زیادہ عمر کا مطلب لازماً بہتر زندگی نہیں۔ محض طویل عمر اچھی زندگی کی ضمانت نہیں دیتی۔
اعداد و شمار کے مطابق اسپین میں 96.6 فیصد بزرگ افراد اپنے گھروں میں ہی رہتے ہیں، لیکن کسی شخص کا اپنے گھر میں بہتر انداز میں بڑھاپا گزارنا صرف اس کی خواہش یا صحت پر منحصر نہیں۔ اس کا تعلق گھروں کی رسائی، برداشت کے قابل اخراجات، رہائشی استحکام، تعمیراتی معیار، شہری یا دیہی ماحول، دستیاب سہولیات اور سماجی و معاشی وسائل سے بھی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 65 برس سے زائد عمر کے افراد کے 22.7 فیصد گھرانے رہائشی اخراج کا شکار ہیں، جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کی رہائش گاہیں مناسب معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ کرائے کے گھروں میں رہنے والے بزرگوں کی صورتحال مزید تشویشناک ہے، جہاں یہ شرح 53.5 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔
اگرچہ بزرگوں میں گھر کی ملکیت عام ہے اور 84.8 فیصد بزرگ اپنے ذاتی گھروں میں رہتے ہیں، تاہم ان گھروں میں بھی مسائل موجود ہیں، خاص طور پر عمارتوں کی ناقص رسائی۔ رپورٹ کے مطابق 36.3 فیصد بزرگوں کو عمارت سے خود مختار طریقے سے باہر نکلنے میں دشواری کا سامنا ہے۔
دوسری جانب، اکیلے رہنے والے بزرگوں کی تعداد بھی بڑھ کر 47.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو تشویش کا باعث ہے، کیونکہ اس سے ناپسندیدہ تنہائی کے خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ روزمرہ معاون نیٹ ورکس اور سماجی روابط میں کمی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں سستی، باوقار اور موزوں ماحول میں واقع رہائش تک رسائی خاص طور پر کمزور طبقوں کے لیے ایک مشکل چیلنج بن چکی ہے۔ اسی لیے تحقیق میں سفارش کی گئی ہے کہ گھروں کی رہائشی سہولت اور رسائی کو بہتر بنایا جائے، کمیونٹی روابط کو مضبوط کیا جائے اور قریبی سماجی و شہری خدمات کو فروغ دیا جائے۔