بادالونا میں B9 سے بے دخلی کے بعد کرسمس کے دوران سردی اور خوف میں مبتلا بے گھر افراد کے کیمپ قائم

WhatsApp Image 2025-12-27 at 00.59.34 (2)

بادالونا (دوست نیوز)بادالونا میں قدیم تعلیمی ادارے B9 سے 17 دسمبر کو بے دخلی کے بعد تقریباً ایک سو بے گھر افراد کا عارضی کیمپ موٹر وے C-31 کے پل کے نیچے قائم ہو چکا ہے، جو اب ایک مستقل صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ شدید سردی، بارش اور تیز ہواؤں کے باوجود یہ لوگ وہیں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ان میں سے بعض افراد نے دیگر شہروں میں منتقلی کی پیشکش اس خوف سے مسترد کر دی کہ کہیں ان کا سامان ضائع نہ ہو جائے یا انہیں ملک بدر نہ کر دیا جائے۔

یہ کیمپ وقت کے ساتھ پھیلتا گیا ہے کیونکہ شہر کے وہ دیگر بے گھر افراد بھی یہاں آ گئے ہیں جو پہلے B9 میں مقیم نہیں تھے، مگر خراب موسم اور میونسپل پناہ گاہ کی عدم موجودگی کے باعث پل کے نیچے آ کر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ 26 دسمبر، جو کاتالونیا میں سینٹ اسٹیو کا تہوار ہے، اس دن تک یہاں لگ بھگ سو خیمے نصب ہو چکے تھے جو ساحلی علاقے میں آنے والے طوفان کی تیز ہواؤں کا بمشکل مقابلہ کر رہے تھے۔ درجہ حرارت بمشکل 10 ڈگری سے اوپر ہے اور مسلسل بارش نے حالات کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

پل کے نیچے کرسمس کی یاد صرف اس وقت تازہ ہوتی ہے جب مختلف سماجی تنظیموں کے رضاکار گرم کھانا اور مشروبات تقسیم کرتے ہیں۔ اوسمنے نامی ایک شخص کا کہنا ہے کہ “چار دن سے میں اپنی بیٹی کے لیے دودھ بھی نہیں خرید سکا”، کیونکہ B9 خالی ہونے کے بعد وہ کباڑ اکٹھا کرنے باہر نہیں جا سکا، جو اس کی واحد آمدنی تھی۔ ایک اور نوجوان مامادو کا کہنا ہے کہ “کم از کم کھانے میں مدد مل رہی ہے”، ورنہ حالات ناقابل برداشت ہیں۔

متعدد فلاحی ادارے، جن میں Cuineres per la Pau اور Unió per les Segones Oportunitats شامل ہیں، بے گھر افراد کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ روزانہ تقریباً سو سینڈوچ دوپہر اور اتنے ہی رات کے کھانے میں تقسیم کیے جاتے ہیں، ساتھ ہی گرم کافی اور دودھ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ تنظیم کی بانی یولاندا اکپولی کے مطابق روزانہ بیس کے قریب روٹیاں اور چھ لیٹر دودھ صرف ہو جاتا ہے۔

مقامی شہری اور پڑوسی تنظیمیں بھی مدد کے لیے آگے آئی ہیں۔ رضاکار ایسٹریا کہتی ہیں کہ “ان لوگوں کے لیے ہمدردی نہ رکھنا دل کی سختی کے سوا کچھ نہیں”۔ بیت الخلا اور غسل جیسی بنیادی سہولیات تک رسائی بہت محدود ہے اور اکثر بار یا ریستوران صرف ان لوگوں کو واش روم استعمال کرنے دیتے ہیں جو کچھ خریدتے ہیں۔ بادالونا آکُل پلیٹ فارم کے ترجمان کارلس ساگیس کے مطابق 16 خاندانوں نے اپنے گھروں میں 33 متاثرہ افراد کو عارضی طور پر پناہ دی ہے۔

کیمپ میں موجود سعید کا کہنا ہے کہ B9 کے اندر حالات بھی مثالی نہیں تھے، وہاں چوری اور بدامنی کے مسائل تھے، مگر وہ یہ نہیں سمجھ پاتا کہ “اتنی انتظامیہ ہونے کے باوجود ہمیں ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے سردی، بارش اور خوف میں سڑک پر کیوں چھوڑا گیا ہے”۔ اس کے مطابق مسئلے کی جڑ افریقی ممالک میں خراب سیاسی قیادت ہے جس نے قدرتی وسائل سے مالا مال خطوں کو غربت میں دھکیل دیا۔

ساگیس کے مطابق اس وقت صورتحال محض بقا کی جنگ ہے اور عملی طور پر زیادہ تر امداد رضاکاروں کے کندھوں پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 23 دسمبر کو کاتالونیا کی حکومت نے ایک عارضی آپریشن کے ذریعے تقریباً 140 افراد کو متبادل رہائش کی پیشکش کی، مگر یہ عمل عجلت میں اور بغیر واضح معلومات کے کیا گیا، جس کی وجہ سے کئی افراد نے گاڑیوں میں بیٹھنے سے انکار کر دیا۔

بالآخر تقریباً 30 افراد کو دیگر مراکز میں منتقل کیا گیا، جبکہ 70 سے 90 افراد نے وہیں رہنے کو ترجیح دی۔ وجوہات میں اپنا سامان نہ چھوڑنے کا خوف، بادالونا میں موجود کمزور سماجی رابطوں کا ٹوٹ جانا، یا غیر قانونی حیثیت کے باعث حراستی مرکز یا ملک بدری کا خدشہ شامل ہے۔ سابق ترجمان یونس درامے کے مطابق “کچھ لوگ یہاں کام کرتے ہیں یا کورسز کر رہے ہیں، اگر انہیں لیریدا یا جیرونا بھیج دیا گیا تو سب کچھ ختم ہو جائے گا”۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے