بارسلونا میں بغیر قمیص گھومنے پر 300 یورو تک جرمانہ، اطلاق کب ہوگا؟

Screenshot

Screenshot

بارسلونا(دوست نیوز) نئے سال کے ساتھ نئے قواعد بھی نافذ ہونے جا رہے ہیں۔ چند ماہ کے اندر بارسلونا کی سڑکوں پر بغیر قمیص گھومنے والوں کے خلاف جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ فروری 2026 سے سوشلسٹ میونسپل حکومت عوامی مقامات پر جزوی برہنگی کے خلاف سخت کارروائی شروع کرے گی۔ یہ فیصلہ تقریباً دو دہائیوں پر محیط قانونی تنازع کے بعد عملی شکل اختیار کر رہا ہے۔

2011 میں بارسلونا سٹی کونسل نے ایک آرڈیننس منظور کیا تھا جس کے تحت شہر میں بغیر قمیص گھومنے پر پابندی عائد کی گئی تھی، مگر طویل عدالتی کارروائیوں کے باعث اس پر مؤثر عمل درآمد ممکن نہ ہو سکا۔ اب یہ ضابطہ 2026 میں، فروری سے نافذ ہوگا۔

یہ آرڈیننس اس وقت کے میئر جوردی ہیریو کے دور میں منظور ہوا تھا، جس میں “تقریباً برہنہ” افراد کے لیے سزاؤں کا ذکر تھا۔ اسی مبہم زبان کے باعث نیچرلزم کی حامی تنظیموں نے اس کے خلاف اپیلیں دائر کیں۔ 2015 میں ہسپانوی سپریم کورٹ نے اس قانون کو غیر واضح اور مبالغہ آمیز قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا تھا۔

نئے متن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ عوامی مقامات پر بغیر قمیص، شرٹ یا کسی اور ایسے لباس کے جو دھڑ کو ڈھانپے، چلنا یا رکنا ممنوع ہوگا، البتہ کھیل یا جسمانی سرگرمی کے دوران اس کی اجازت ہوگی۔

نئی قانون سازی کے مطابق بغیر قمیص گھومنے پر زیادہ سے زیادہ 300 یورو جرمانہ ہوگا، جبکہ مکمل برہنگی کی صورت میں جرمانہ 500 یورو تک پہنچ سکتا ہے۔ ضابطے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ گواردیا اربانا پہلے مرحلے میں وارننگ دے گی اور جرمانہ اس کے بعد ہی عائد کیا جائے گا۔ اس قانون کا اطلاق ساحلوں، سوئمنگ پولز یا ساحلی راستوں پر نہیں ہوگا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے ضابطہ منسوخ ہونے کے بعد، اس وقت کے میئر زاویئر تریاس کی حکومت نے اس میں ترمیم کا اعلان کیا تھا، مگر جون 2015 میں ادا کولاؤ کے میئر بننے کے بعد یہ اصلاحات معطل ہو گئیں۔

تقریباً ایک ماہ قبل، جنتس اور پی ایس سی نے شہری نظم و ضبط سے متعلق آرڈیننس کی تازہ کاری پر اتفاق کیا، جسے بعد میں ای آر سی کی حمایت بھی حاصل ہو گئی۔ ووٹنگ میں پی ایس سی، جنتس اور ای آر سی نے حمایت کی، پاپولر پارٹی نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا، جبکہ بی کومو اور ووکس نے اس کی مخالفت کی۔

یہ صورت حال بڑی حد تک 2005 جیسی ہے، البتہ اس بار ووکس بھی سٹی کونسل میں موجود ہے، جو بیس سال قبل نمائندگی نہیں رکھتی تھی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے