پیرس میں تاریخی ٹریفک جام، لندن میں جمی ہوئی جھیلیں، شدید سردی کی لہر نے یورپ کو مفلوج کر دیا

Screenshot

Screenshot

پیرس(دوست نیوز)یورپ کے بڑے حصے اس وقت شدید قطبی ہوائی دباؤ کی زد میں ہیں، جس کے باعث مختلف ممالک میں ہوائی اڈوں اور عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متعدد تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں، بعض علاقوں میں سیلاب کی صورتحال بھی پیدا ہوئی ہے، جبکہ اس موسمی شدت کے نتیجے میں اب تک کم از کم چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

Screenshot

اسپین میں 14 خودمختار خطے الرٹ پر ہیں۔ جیرونا اور ویسکا میں درجہ حرارت منفی 6 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا، آویلا اور کوئنکا میں منفی 5 ڈگری ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بعض علاقوں میں پارہ منفی 14 ڈگری تک پہنچ گیا۔ لا گرانخا دے سان اِلدیفونسو کے شاہی محل کے باغات برف کی سفید چادر میں ڈھک گئے۔

Screenshot

جرمنی کے دارالحکومت برلن میں شدید برف باری ہوئی، جہاں شہر کے وسطی پارک ٹیئرگارٹن میں گاڑیاں برف سے ڈھکی سڑکوں پر آہستہ آہستہ چلتی دکھائی دیں۔

برطانیہ میں اسکاٹ لینڈ، ویلز اور انگلینڈ کے مختلف حصوں کے لیے محکمہ موسمیات نے برف اور جمنے والی سردی کے باعث پیلے اور عنبری الرٹس جاری کر دیے ہیں۔ شمالی ویلز کے قصبے مولڈ میں شہری برف پوش ڈھلوانوں پر پھسلتے نظر آئے۔

Screenshot

نیدرلینڈز میں بھی شدید ژالہ باری اور برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔ ایمسٹرڈیم میں شہری سرد بارش کے دوران چھتریاں لیے سڑکوں پر چلتے دکھائی دیے۔

ڈنمارک کے شہر آلبورگ میں بلدیاتی عملہ سڑکوں سے برف ہٹانے میں مصروف ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک کے شمال میں کم دباؤ کے بڑے نظام کے باعث موسم میں اچانک اور شدید تبدیلی آئی ہے۔

Screenshot

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں ریجنٹس پارک کی جھیلیں جم گئیں، جہاں شہری منجمد پانی کے مناظر دیکھنے کے لیے جمع ہوئے۔ 2026 کی پہلی برف باری کے بعد پورے ملک میں سردی کی شدید لہر برقرار ہے۔

Screenshot

پولینڈ کے شمالی شہر سلوپسک میں رات بھر ہونے والی برف باری کے بعد سڑکیں سفید چادر میں ڈھک گئیں۔ پومیرانیا اور مغربی پومیرانیا کے بعض علاقوں میں سطح تین کے انتباہات جاری کیے گئے ہیں، جہاں برف کی تہہ 60 سینٹی میٹر تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

Screenshot

فرانس میں پیرس کے ہوائی اڈوں پر تقریباً 140 پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ شہر اور اس کے نواح میں ایک ہزار کلومیٹر سے زائد طویل ٹریفک جام ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جمی ہوئی سڑکوں کے باعث آمدورفت بدستور انتہائی مشکل بنی ہوئی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے