50 سال سے زائد عمر کے ہسپانوی مردوں کی جنسی زندگی: “جسم کی رفتار سست ہو جاتی ہے اور صبر کم رہ جاتا ہے”
Screenshot
50 سال کی عمر کے بعد مردوں کے لیے جنسی زندگی ختم نہیں ہوتی، بلکہ اس کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ رفتار بدلتی ہے، توقعات بدلتی ہیں اور اکثر یہ سب خاموشی کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ کہنا ہے نایارا مالنیرو کا، جو سیکسولوجسٹ، ماہرِ نفسیات اور جوڑوں کی معالج ہیں۔ ان کے مطابق مرد عام طور پر سنجیدگی سے جنسی معاملات پر بات نہیں کرتے بلکہ مذاق، لطیفوں یا آپس کے موازنے تک محدود رہتے ہیں، اور یہی خاموشی بعد میں دباؤ کو جنم دیتی ہے۔
“مجھے کرنا چاہیے، مجھے دیر تک قائم رہنا چاہیے، مجھے معیار پر پورا اترنا چاہیے” جیسے خیالات اسی دباؤ کی مثال ہیں۔
مالنیرو اس تصور کو بھی رد کرتی ہیں کہ ماضی اور حال کی مردانہ جنسی زندگی میں کوئی ڈرامائی فرق ہے۔ ان کے بقول اصل فرق حالات کا ہے۔ آج کے مرد یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے پاس زندگی کے مزید سال ہیں، جبکہ اسی دوران عورتیں اپنی خواہشات، پسند اور حدود کا کھل کر اظہار کر رہی ہیں، جو بعض مردوں میں عدمِ تحفظ کو جنم دیتا ہے۔
50 کے بعد سب سے عام خدشات
کلینک میں مالنیرو کے پاس آنے والے مردوں کے مسائل عموماً دو بڑے دائروں میں آتے ہیں۔ ایک عضوِ تناسل کی کمزوری، جو ہر بار جسمانی وجہ سے نہیں ہوتی۔
“اکثر مسئلہ یہ نہیں کہ جسم کام نہیں کر رہا، بلکہ یہ ہے کہ جسم کی رفتار سست ہو جاتی ہے اور مردوں میں صبر نہیں رہتا”، وہ بتاتی ہیں۔ ان کے مطابق اصل رکاوٹ ذہنی ہوتی ہے، جس میں بے صبری، خود آگاہی کی کمی اور شریکِ حیات سے کمزور تعلق شامل ہیں۔
دوسرا بڑا مسئلہ انزال سے متعلق ہے، یعنی قبل از وقت یا تاخیر سے انزال۔ اس کے ساتھ ساتھ کم جنسی خواہش بھی عام ہے، جس کے پیچھے درمیانی عمر کے مانوس عوامل ہوتے ہیں، جیسے کام اور مالی دباؤ، تھکن اور جسمانی تبدیلیاں۔
مالنیرو کے مطابق قبل از وقت انزال ایک عام مسئلہ ہے اور اندازوں کے مطابق ہر چار میں سے ایک مرد اس کا شکار ہوتا ہے۔ دیگر طبی حوالوں میں بھی یہ شرح 25 سے 40 فیصد تک بتائی جاتی ہے، یعنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر یہ مسئلہ بڑی تعداد میں مردوں کو متاثر کرتا ہے۔
عضوِ تناسل کی کمزوری بھی اسی طرح عام ہے، اگرچہ اس پر کم بات کی جاتی ہے۔ اسپین میں فاؤنڈیشن فار میڈیکل ٹریننگ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ مسئلہ عمر کے ساتھ بڑھتا ہے۔ 50 سے 59 سال کے مردوں میں اس کی شرح 24.5 فیصد جبکہ 60 سے 70 سال کے درمیان 49 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ یعنی یہ کوئی نایاب مسئلہ نہیں بلکہ شماریاتی طور پر متوقع حقیقت ہے۔
جنسی مسئلہ یا صحت کا اشارہ؟
ماہرین کے مطابق عضوِ تناسل کی کمزوری صرف جنسی مسئلہ نہیں بلکہ بعض اوقات یہ دل کی بیماریوں کا ابتدائی اشارہ بھی ہو سکتی ہے۔ ہسپانوی سوسائٹی آف کارڈیالوجی کے مطابق یہ کیفیت دل کی بیماری کے خطرے کی پیشگی علامت بن سکتی ہے، خاص طور پر 50 سال کے بعد۔
مالنیرو اس حوالے سے ایک عام رجحان کی نشاندہی کرتی ہیں۔ “زیادہ تر مرد سیدھا گولیوں کا سہارا لیتے ہیں اور بلاوجہ تکلیف اٹھاتے ہیں”، وہ کہتی ہیں۔ طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ خود سے دوا لینا مناسب نہیں اور علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع ضروری ہے، کیونکہ ایسی ادویات صرف نسخے پر ہی استعمال ہونی چاہئیں۔
سب سے بڑی غلطی: ہار مان لینا
مالنیرو کے مطابق سب سے تشویشناک رویہ یہ ہے کہ مرد خود ہی ہار مان لیتے ہیں۔
“سب سے عام غلطی یہ ہے کہ لوگ کہہ دیتے ہیں ‘اب اس عمر میں کیا’ یا ‘اب تو یہی رہ گیا ہے’”، وہ کہتی ہیں۔ ان کے نزدیک یہ سوچ غلط ہے، کیونکہ 50 سال کی عمر میں ابھی کئی دہائیاں باقی ہوتی ہیں اور جنسی زندگی کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
وہ اس بات پر بھی زور دیتی ہیں کہ کارکردگی کا دباؤ جنسی مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔ ثقافتی توقعات، جیسے ہر وقت آمادگی، دیرپا کارکردگی اور شریکِ حیات کو لازماً مطمئن کرنا، مردوں پر غیر ضروری بوجھ ڈالتی ہیں۔
“یہ مردانہ تصورات اکثر مردوں کو عورتوں سے زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں”، وہ کہتی ہیں۔ان کا حل کسی نعرے پر مبنی نہیں بلکہ رویے کی تبدیلی ہے۔ بات چیت، مدد طلب کرنا اور یہ سمجھنا کہ تعلق میں سب کچھ اکیلے نہیں کرنا ہوتا۔
“انہیں یہ مسئلہ اکیلے حل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے”
اور آخر میں وہ ایک سادہ مگر معنی خیز بات کہتی ہیں: اداکاری چھوڑیں اور بات چیت شروع کریں۔