ماہرِ امراضِ قلب نے پیس میکر رکھنے والوں کے لیے V-16 ایمرجنسی بیکن کے ممکنہ خطرات سے خبردار کر دیا

Screenshot

Screenshot

بارسلونا(دوست نیوز)ماہرِ امراضِ قلب نے مشورہ دیا ہے کہ جن افراد کے جسم میں پیس میکر لگا ہو وہ V-16 بیکن کو جسم کے زیادہ قریب نہ لائیں۔

یکم جنوری سے اسپین میں گاڑی چلانے والوں کے لیے V-16 ایمرجنسی بیکن کا استعمال لازمی ہو چکا ہے، تاہم اس نئے آلے کے حوالے سے شکوک و شبہات اب بھی برقرار ہیں۔ اب طبی ماہرین نے آبادی کے ایک مخصوص طبقے کو ان آلات سے لاحق ممکنہ خطرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

معروف ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر میگوئل آنخل کوبوس نے وضاحت کی کہ V-16 بیکن پیس میکر استعمال کرنے والے افراد پر کس طرح اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بیکن برقی مقناطیسی لہریں خارج کرتے ہیں جو موبائل فون کے مقابلے میں کم طاقتور ہوتی ہیں، جبکہ موبائل فون تو عام طور پر لوگ ہر وقت جسم کے قریب رکھتے ہیں۔ تاہم اصل خطرہ یہ ہے کہ زیادہ تر V-16 بیکن میں ایک طاقتور مقناطیس ہوتا ہے جو گاڑی کی چھت سے چپکانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر کوبوس نے مزید کہا کہ اسپین میں پیس میکر اور ڈیفبریلیٹر استعمال کرنے والے افراد کی تعداد خاصی زیادہ ہے، اس لیے ان کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ بیکن کو کبھی بھی اس جگہ کے قریب نہ لائیں جہاں آلہ جسم میں نصب ہے۔ ان کے مطابق عام حالات میں اگر بیکن کو گاڑی کی چھت پر رکھنے کے دوران جسم سے 40 سے 50 سینٹی میٹر کے فاصلے پر رکھا جائے تو عام طور پر کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، لیکن احتیاط نہایت ضروری ہے۔

آخر میں ماہرِ امراضِ قلب نے خبردار کیا کہ اگر V-16 بیکن کو پیس میکر کے بہت قریب رکھا جائے تو اس سے آلے میں خلل پیدا ہو سکتا ہے اور حتیٰ کہ اس کی پروگرامنگ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پیس میکر رکھنے والے افراد کو اس معاملے میں خاص طور پر محتاط رہنا چاہیے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے