پیدرو سانچیز کی یورپی جنگی طیارے کے منصوبے کے جلد عملی شکل اختیار کرنے کی خواہش، جرمنی اور فرانس کے اختلافات برقرار

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ (دوست نیوز)اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے جمعرات کے روز یورپی مستقبل کے جنگی طیارے کے منصوبے ایف سی اے ایس (Future Combat Air System) کے بارے میں امید ظاہر کی ہے کہ یہ منصوبہ بالآخر عملی شکل اختیار کر لے گا، حالانکہ جرمنی اور فرانس کے درمیان اس حوالے سے اختلافات بدستور موجود ہیں۔

یہ مشترکہ منصوبہ اسپین، جرمنی اور فرانس کے تعاون سے چھٹی نسل کے جنگی طیارے کی تیاری کے لیے شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد 2040 کے بعد یورو فائٹر اور رافیل طیاروں کی جگہ لینا ہے۔ تاہم، جرمنی اور فرانس کے درمیان قیادت اور صنعتی کردار کے معاملے پر اختلافات کے باعث یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہے۔ فرانسیسی دفاعی صنعت اس منصوبے کی قیادت تنہا کرنا چاہتی ہے، جبکہ برلن کا مؤقف ہے کہ طے شدہ معاہدوں کی پاسداری ہونی چاہیے۔ اسپین مسلسل تینوں ممالک کے درمیان اتحاد پر زور دیتا آ رہا ہے۔

وزارتِ دفاع کے ذرائع کے مطابق اس وقت یہ امکان زیرِ غور ہے کہ منصوبے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے: ایک طیارہ مکمل طور پر فرانسیسی صنعت تیار کرے، جبکہ دوسرا اسپین اور جرمنی کی کمپنیوں کے اشتراک سے بنایا جائے۔ دسمبر میں تینوں ممالک کے وزرائے دفاع کی ملاقات ہوئی تھی، تاہم کسی حتمی معاہدے تک رسائی نہیں ہو سکی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر فیصلہ جلد متوقع ہے۔

ایف سی اے ایس منصوبے میں ایک جدید “کامبیٹ کلاؤڈ” کی تیاری بھی شامل ہے، جو اسپین کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ وزارتِ خارجہ میں سفیروں اور سفیرات کی کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم سانچیز نے کہا، “امید ہے کہ یہ منصوبہ اب کسی طرح ٹھوس شکل اختیار کر لے۔” انہوں نے واضح کیا کہ اس تعطل کی ذمہ داری اسپین پر عائد نہیں ہوتی۔

دفاعی اخراجات میں ہم آہنگی کی ضرورت

اپنی تقریر میں سانچیز نے یورپ کی سلامتی کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ دفاعی اخراجات میں “من مانا اور غیر مربوط” اضافہ درست حکمتِ عملی نہیں ہوگا۔ اسپین نیٹو کے اس فیصلے کی مخالفت کرنے والا واحد ملک تھا جس کے تحت دفاع اور سلامتی پر جی ڈی پی کا 5 فیصد خرچ کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ تاہم نیٹو نے اسپین کو اس شرط پر لچک کی اجازت دی کہ وہ طے شدہ عسکری صلاحیتوں کے اہداف حاصل کرے۔

وزیرِاعظم نے یورپی دفاعی صلاحیتوں کو “مربوط انداز” میں ترقی دینے کی اپیل کی تاکہ یورپ کی خودمختاری اور اسٹریٹجک خود انحصاری کو تقویت ملے۔ ان کے مطابق اس کے لیے بہتر انداز میں سرمایہ کاری اور ہسپانوی دفاعی صنعت کی حمایت ضروری ہے، چاہے وہ بڑی کمپنیاں ہوں یا چھوٹی، جو نئی ٹیکنالوجیز، دوہری استعمال کی مصنوعات اور سائبر سکیورٹی پر کام کر رہی ہیں۔

سانچیز نے کہا کہ یہ سب کچھ امریکہ کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے بھی ممکن ہے، اگرچہ واشنگٹن یورپی ممالک پر دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے اور یہ انتباہ بھی کر چکا ہے کہ اگر یورپ نے زیادہ خرچ نہ کیا تو وہ اپنی وابستگی پر نظرِثانی کر سکتا ہے۔ ان کے بقول، “یورپ اور امریکہ کے درمیان تعلق برابری کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ کسی قسم کی تابع داری پر۔”

اسی تناظر میں وزیرِاعظم نے نیٹو کے ساتھ اسپین کے عزم کو دہرایا اور یاد دلایا کہ اسپین اتحاد کے مشرقی محاذ کی سلامتی میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے، خواہ وہ فضائی حدود ہوں، مشرقی بحیرۂ روم ہو یا بحیرۂ بالٹک۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے