اسپین اور کیتھولک چرچ کے درمیان جنسی زیادتی کے متاثرین کے ازالے کا معاہدہ
Screenshot
میڈرڈ: ہسپانوی حکومت اور کیتھولک چرچ نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت جنسی زیادتی کے اُن متاثرین کو مالی اور علامتی معاوضہ اور باضابطہ اعتراف دیا جائے گا جن کے مقدمات مدتِ معیاد ختم ہونے کے باعث عدالتوں میں نہیں چل سکتے۔
یہ معاہدہ جمعرات کو میڈرڈ میں وزیرِ انصاف فیلکس بولانیوس، ہسپانوی ایپسکوپل کانفرنس کے صدر لوئیس آرگویّو اور مذہبی تنظیموں کی ہسپانوی کانفرنس (کونفر) کے صدر خیسوس دیاث نے دستخط کیا۔ اس کے تحت چرچ اور ریاست کے اشتراک سے ازالے کا ایک نظام قائم کیا گیا ہے جس میں متاثرین کی شمولیت بھی شامل ہے اور جس کا اطلاق اُن کیسز پر ہوگا جو قانونی طور پر وقت گزرنے کے باعث قابلِ سماعت نہیں رہے۔
دستخط کے بعد پریس کانفرنس میں وزیرِ انصاف بولانیوس نے متاثرین کی تنظیموں کی مسلسل جدوجہد کو سراہا جنہوں نے برسوں تک خاموشی اور عدمِ توجہی کے خلاف آواز بلند کی۔ انہوں نے ویٹیکن کے کردار اور اہم مواقع پر اس کی حمایت کا بھی ذکر کیا۔ بولانیوس نے کہا کہ یہ معاہدہ محتسبِ اعلیٰ (ڈیفنسور دل پیوبلو) کی سفارشات کے عین مطابق ہے، جو طویل، پیچیدہ اور مشکل مذاکرات کے بعد ممکن ہوا۔
ان کے مطابق یہ معاہدہ چرچ میں ہونے والی زیادتیوں کے متاثرین کے ساتھ ایک تاریخی اخلاقی قرض کی ادائیگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں تک خاموشی، پردہ پوشی اور بے عملی کے بعد آج جمہوریت اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہے۔ بولانیوس نے تسلیم کیا کہ اسپین نے اس معاملے میں تاخیر کی، تاہم اب تک تاریخی کیسز کے متاثرین کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا کیونکہ وہ عدالتوں سے انصاف حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ نئے معاہدے کے تحت ازالہ ماضی پر بھی لاگو ہوگا اور چرچ کی جانب سے منصفانہ اور مناسب معاوضہ دیا جا سکے گا۔
ازالے کا طریقہ کار
معاہدے کے تحت متاثرین سب سے پہلے وزارتِ انصاف میں درخواست جمع کرائیں گے۔ اس کے بعد کیس محتسبِ اعلیٰ کے متاثرین کے خصوصی یونٹ کو بھیجا جائے گا، جو متاثرہ فرد کی درخواست کی بنیاد پر ازالے کی تجویز تیار کرے گا۔ یہ ازالہ علامتی، بحالی پر مبنی، روحانی یا مالی نوعیت کا ہو سکتا ہے۔
یہ تجویز چرچ کے قائم کردہ مشاورتی کمیشن کو بھیجی جائے گی جو متاثرین کے ازالے کے جامع منصوبے (سی پی آر آئی وی اے) کے تحت اس کا جائزہ لے کر اپنی رائے دے گا۔ اگر کمیشن اور متاثرہ فرد دونوں متفق ہوں تو فیصلہ حتمی ہوگا۔ اختلاف کی صورت میں متاثرین کی تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیشن متفقہ حل تلاش کرے گا۔ اگر وہاں بھی اتفاق نہ ہو سکا تو محتسبِ اعلیٰ کا یونٹ حتمی فیصلہ جاری کرے گا۔
معاہدے کے مطابق کسی بھی مالی معاوضے کی ادائیگی کیتھولک چرچ کرے گا۔ وزارتِ انصاف کے مطابق چرچ کو طے شدہ مدت کے اندر ازالے پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ اگر کسی ڈایوسیس، مذہبی ادارے یا متعلقہ تنظیم نے عمل نہ کیا تو ایپسکوپل کانفرنس اور کونفر اس کی ضمانت دیں گے۔
یہ معاہدہ اپریل 2024 میں حکومت کی جانب سے محتسبِ اعلیٰ کی تاریخی رپورٹ پر عمل درآمد کے منصوبے کی منظوری کے ڈیڑھ سال بعد سامنے آیا ہے۔ اسی رپورٹ کی بنیاد پر چرچ کے ساتھ مذاکرات شروع ہوئے تھے تاکہ اُن متاثرین کے لیے ایک مخصوص ازالہ نظام بنایا جا سکے جو قانونی مدت ختم ہونے کے باعث عدالتوں سے رجوع نہیں کر سکتے تھے۔