وینزویلا سے رہا کیے گئے پانچوں ہسپانوی شہری اہلِ خانہ کے ساتھ اسپین پہنچ گئے
میڈرڈ: وینزویلا میں قید پانچ ہسپانوی شہریوں کو رہا کیے جانے کے بعد وہ جمعہ کے روز اسپین پہنچ گئے، جہاں میڈرڈ کے باراخاس ہوائی اڈے پر ان کے اہلِ خانہ اور دوستوں نے جذباتی استقبال کیا۔
بوگوٹا (کولمبیا) سے آنے والی پرواز دوپہر تقریباً دو بجے میڈرڈ میں اتری۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں ملکی و غیر ملکی میڈیا بھی موجود تھا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق رہا ہونے والوں کی تعداد پانچ ہے، اگرچہ وینزویلا کی قومی اسمبلی کے صدر خورخے روڈریگس نے اس سے قبل صرف “اہم تعداد” میں قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا تھا، تاہم کوئی عدد نہیں بتایا تھا۔

رہا ہونے والوں میں باسک خطے سے تعلق رکھنے والے آندریس مارتینیس آداسمی اور خوسے ماریا باسوا، جزائرِ قناری کے میگوئل مورینو، ویلینسیا کے ارنیستو گوربے اور ہسپانوی نژاد وینزویلی شہری روسیو سان میگل شامل ہیں۔
خورخے رودریگس کا کہنا تھا کہ یہ اقدام “یکطرفہ امن کا اشارہ” ہے اور اس پر کسی دوسری فریق سے پیشگی اتفاق نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اس عمل میں ثالثی کے کردار پر اسپین کے سابق وزیرِ اعظم خوسے لوئس رودریگس ثپاتیرو کا شکریہ بھی ادا کیا۔
اسپین کے وزیرِ خارجہ خوسے مانوئل آلبارس نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں ان شہریوں کی وطن واپسی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ آخرکار اپنے اہلِ خانہ اور دوستوں سے مل سکے ہیں، اور امید ظاہر کی کہ وہ جلد اپنی معمول کی زندگی کی طرف لوٹ آئیں گے۔
ادھر باسک حکومت کے سیکریٹری برائے خارجہ امور نے بتایا کہ خوسے ماریا باسوا اور آندریس مارتینیس کے اہلِ خانہ اس وقت شدید جذباتی کیفیت میں ہیں، تاہم اس بات پر مطمئن اور پُرامید ہیں کہ یہ دردناک باب اب ایک خوفناک خواب بن کر ماضی کا حصہ بن جائے گا۔
وزیرِ خارجہ آلبارس کے مطابق، رہا کیے گئے تمام ہسپانوی شہریوں نے بتایا کہ انہیں رہائی کی اطلاع عین اسی وقت دی گئی، جس کے باعث وہ شدید ذہنی صدمے میں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک دن یہ سمجھ کر اٹھے تھے کہ قید کا سلسلہ ابھی طویل ہو گا، مگر چند ہی گھنٹوں بعد وہ اسپین کے سفیر کی رہائش گاہ میں موجود تھے۔
واضح رہے کہ خوسے ماریا باسوا اور آندریس مارتینیس کو ستمبر 2024 میں وینزویلا کی ایمیزونیا میں حراست میں لیا گیا تھا۔ وینزویلا کی حکام نے ان پر اسپین کی خفیہ ایجنسی سی این آئی سے تعلق اور صدر نکولس مادورو کے خلاف بین الاقوامی سازش میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا، جسے اسپین کی حکومت نے بارہا مسترد کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔