قیدیوں پر غیرمعمولی پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے بلباؤ میں ہزاروں افراد کا احتجاجی مظاہرہ

Screenshot

Screenshot

اسپین/ ہزاروں افراد نے ہفتے کے روز بلباؤ میں مظاہرہ کیا۔ یہ احتجاج شہری نیٹ ورک سارے کی اپیل پر کیا گیا، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ای ٹی اے کے قیدیوں پر قانون سازی، عدالتی اور تعزیری نظام کے تحت عائد کی گئی ’’غیر معمولی پابندیوں‘‘ کا خاتمہ کیا جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جو معاشرہ خود کو حقیقی جمہوری کہنا چاہتا ہے، وہ قیدیوں سے اپنی زندگی کو معمول پر لانے کا حق نہیں چھین سکتا۔

سارے کے زیر اہتمام ہونے والا یہ سالانہ مظاہرہ اس برس “Ezin da gehiago luzatu” یعنی ’’اب مزید تاخیر نہیں‘‘ کے نعرے کے ساتھ منعقد ہوا۔ جلوس شام پانچ بجے کے بعد لا کاسییا اسکوائر سے روانہ ہو

جلوس کے اختتام پر سارے کے ترجمان خوسےبا ازکاراگا اور بیگو اتچا نے شرکا سے خطاب میں کہا کہ بلباؤ کی سڑکوں کا ایک بار پھر بھر جانا انسانی حقوق، سیاسی بنیادوں پر قید، جلاوطن اور ملک بدر افراد کے حق میں ایک واضح پیغام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2023 کے بعد قیدیوں کو دور دراز جیلوں میں رکھنے، منتشر کرنے اور سخت ترین قید کے نظام سے پیچھے ہٹا گیا ہے، اور اب یہ عمل اپنے آخری مرحلے میں ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ یہ عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔

ترجمانوں نے زور دیا کہ دہائیوں پر محیط تصادم اور تکالیف کا خاتمہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب انسانی حقوق کی مشترکہ بنیاد پر آگے بڑھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مفادات کے لیے متاثرین کے دکھ کو استعمال کرنا یا متاثرین کے مختلف درجے بنانا قابل قبول نہیں۔

سارے کے مطابق، ای ٹی اے کے قیدی 2011 کے بعد امن اور بقائے باہمی کے لیے جتنے عملی اقدامات کر چکے ہیں، اتنے اسپین کی دائیں بازو کی سیاسی اور عدالتی قوتیں مل کر بھی نہیں کر سکیں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ قیدیوں سے وہی تقاضے کیے جائیں جو عام قانون کے تحت ہر قیدی پر لاگو ہوتے ہیں۔

آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ سارے اپنی جدوجہد اس وقت تک جاری رکھے گی جب تک آخری قیدی اپنے گھر واپس نہیں پہنچ جاتا، کیونکہ ان کے بقول، حقیقی امن نہ بھولنے سے آتا ہے اور نہ ناانصافی کے ساتھ ممکن ہے، بلکہ سچ، اعتراف اور باہمی احترام ہی پائیدار بقائے باہمی کی بنیاد بن سکتے ہیں

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے