مسلسل مہاجرین کی آمد سے وِک شہر کی سماجی ومعاشرتی تقسیم بڑھنے لگی
کاتالونیا کے شہر وِک کو میدر دریا دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ دریائے گُری کی اس معاون ندی کے شمالی کنارے تاریخی پلازا مایور، بشپ کی عمارت اور پرانی کسٹمز بلڈنگ واقع ہے جو اب جدید بلدیاتی دفاتر میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس کے برعکس جنوبی حصے میں منظر بدل جاتا ہے، جہاں بلند و بالا فلیٹس اور بڑے رہائشی منصوبے ہیں، جن میں سے اکثر گزشتہ صدی میں تعمیر ہوئے تھے۔

تاہم وِک میں یہ تقسیم محض شہری نقشے تک محدود نہیں۔ جنوبی محلوں کی یہ عمارتیں، جہاں کبھی اوسانا کی گوشت کی صنعت سمیت مختلف صنعتی شعبوں کی کشش کے باعث اسپین کے جنوبی علاقوں سے آنے والے مزدور خاندان آباد تھے، اب زیادہ تر غیر ملکی شہریت رکھنے والے مکینوں کا مرکز بن چکی ہیں۔ نسبتاً کم کرایوں کی وجہ سے یہی علاقے نئی ہجرت کا رخ بنتے جا رہے ہیں۔

اس صورتحال نے شہر میں سماجی اور تعلیمی چیلنجز کو جنم دیا ہے۔ مقامی تعلیمی ادارے نسلی اور سماجی تفریق کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہیں، مگر مسلسل بڑھتی ہوئی ہجرت کے باعث محلہ جاتی روابط کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔ بعض اساتذہ اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں مضبوط سماجی نیٹ ورک بنانا اور محلے کی سطح پر ہم آہنگی پیدا کرنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔