بارسلونا کےگوتھک محلے میں فلسطینی کرسمس دستکاری کی صدیوں پرانی دکان بند
Screenshot
بارسلونا کے تاریخی گوتھک علاقے میں واقع فلسطینی کرسمس دستکاری کی دکان بیت لحم ٹریژرز محض تین ماہ بعد ہی بند ہو گئی۔ دکان کے مالک کے مطابق بلند کرایہ اس بندش کی بنیادی وجہ بنا، جس نے کاروبار کو جاری رکھنا ناممکن بنا دیا۔
یہ دکان اکتوبر میں فلسطین کے شہر بیت لحم سے بارسلونا منتقل کی گئی تھی۔ اس کے پیچھے مقصد جنگ سے بچاؤ کے ساتھ ساتھ ایک ڈیڑھ سو سال پرانی خاندانی روایت کو زندہ رکھنا تھا۔ بیت لحم ٹریژرز میں فلسطینی ہنرمندوں کی تیار کردہ زیتون کی لکڑی سے بنے کرسمس کے مجسمے، یسوع کی پیدائش کے مناظر، مذہبی زیورات اور دیگر آرائشی اشیا فروخت کی جاتی تھیں، جو امن اور مقامی ثقافت کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔
دکان کے روحِ رواں انتون مِکل نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ وہ اس کاروبار کو صرف کرسمس تک محدود نہیں رکھنا چاہتے، بلکہ اسے سال بھر کے لیے ایک مستند دستکاری مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ تاہم، گوتھک جیسے سیاحتی علاقے میں بلند کرایوں نے اس خواب کو حقیقت بننے سے پہلے ہی روک دیا۔
دکان کی بندش نہ صرف مالک خاندان کے لیے دھچکا ہے بلکہ ان بیس کے قریب فلسطینی کاریگروں کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوئی ہے جن کا روزگار اس دکان سے جڑا تھا۔ اگرچہ مِکل کسی نسبتاً سستی جگہ پر دوبارہ دکان کھولنے کے امکان کو رد نہیں کرتے، مگر ان کے مطابق مناسب جگہ تلاش کرنا آسان نہیں۔ موجودہ حالات کے باعث ان کا بیت لحم واپس جانا بھی فی الحال ممکن نہیں۔
بیت لحم ٹریژرز کی بندش گوتھک محلے میں کاروباروں کے مسلسل ختم ہونے کے رجحان کی ایک اور مثال ہے۔ حالیہ عرصے میں کئی تاریخی دکانیں بھی اسی مسئلے، یعنی بڑھتے ہوئے کرایوں، کے باعث بند ہو چکی ہیں، جو شہر کے مرکز میں تجارتی تنوع کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔