ٹرمپ کی ایران کو “آزاد” کرانے کی پیشکش، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کی امریکا کو جوابی کارروائی کی دھمکی

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ(دوست نیوز)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو “آزاد” کرانے میں مدد کی پیشکش کی ہے۔ یہ بیان انہوں نے ایران میں جاری عوامی احتجاج کے حق میں ایک نئے پیغام کے طور پر دیا ہے، جہاں گزشتہ ایک ہفتے سے مظاہرے جاری ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اب تک ہلاکتوں کی تعداد سو سے تجاوز کر چکی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا:“ایران آزادی چاہتا ہے، شاید پہلے سے کہیں زیادہ۔ امریکا مدد کے لیے تیار ہے۔ صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ۔”

ایران میں یہ احتجاج اس وقت شروع ہوا جب ملکی کرنسی ریال کی قدر میں شدید گراوٹ آئی۔ ابتدائی طور پر یہ مظاہرے معاشی وجوہات تک محدود تھے، تاہم بعد ازاں یہ پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہو گئے۔ ایرانی حکومت نے ابتدا میں مظاہروں کی معاشی وجوہات تسلیم کیں، لیکن حالیہ دنوں میں امریکا اور اس کے اتحادیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حالات کو تشدد کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

صورتحال کے پیش نظر ایران میں گزشتہ 48 گھنٹوں سے تقریباً مکمل انٹرنیٹ بندش نافذ ہے۔ انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق یہ اقدام معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے، جس کی تصدیق خود ایرانی حکام نے بھی کی ہے۔

ٹرمپ کے بیان پر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے مظاہروں کو ہوا دینے کے لیے کوئی فوجی کارروائی کی تو ایران اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو “جائز اہداف” قرار دے سکتا ہے۔

ایران میں حالیہ ہنگاموں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 115 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہ اعداد و شمار انسانی حقوق کی تنظیم HRANA نے جاری کیے ہیں، جو ایران کے اندرونی ذرائع کی بنیاد پر صورتحال پر نظر رکھتی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں 37 سکیورٹی اہلکار شامل ہیں، جن کا تعلق فوج یا پولیس سے تھا۔

HRANA کے مطابق مرنے والوں میں سات کم عمر بچے بھی شامل ہیں، جبکہ زیادہ تر افراد گولیوں یا چھروں کے قریب سے لگنے کے باعث ہلاک ہوئے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے اب تک 2,638 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے