پی پی کے انتخابی جلسے میں ویتو کیلس کے متنازع بیانات، وزیرِاعظم کو دھمکی آمیز انداز میں نشانہ بنایا
Screenshot
میڈرڈ/اسپین کی اپوزیشن جماعت پاپولر پارٹی (PP) کے آراگون میں انتخابی مہم کے اختتامی جلسے کے بعد ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا، جب انتہائی دائیں بازو کے معروف اشتعال انگیز مبصر ویتو کیلس نے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز کے خلاف نہایت تضحیک آمیز اور دھمکی آمیز زبان استعمال کی۔
ثاراگوسا میں منعقدہ اس جلسے میں، جہاں پی پی کے سربراہ البرتو نونیث فیخو اور آراگون کے صدر جارجے آزکون خطاب کر چکے تھے، ویتو کیلس کو خصوصی مہمان کے طور پر اسٹیج پر بلایا گیا۔ اپنے خطاب میں کیلس نے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز، آراگون میں سوشلسٹ امیدوار پیلار الیگریا اور وزیرِٹرانسپورٹ اوسکر پونتے کو سخت تنقید اور توہین کا نشانہ بنایا۔
ویتو کیلس نے کہا کہ “ہمیں سانچیز کو اس کے دوست زاپاتیرو سمیت جیل میں ڈالنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ یہی لوگ معاشرے کو تباہی اور بدحالی کی طرف لے جا رہے ہیں۔” اس کے بعد اس نے سوشل میڈیا سے متعلق حکومت کی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے بات مزید آگے بڑھا دی۔ کیلس نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وزیرِاعظم کو اب سوشل نیٹ ورکس، خاص طور پر ٹک ٹاک، ناگوار لگنے لگا ہے کیونکہ نوجوان وہاں ان کے خلاف رائے دے رہے ہیں۔
نوجوانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہوئے اس نے کہا کہ “اب وہ ٹک ٹاک کو محدود کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ نوجوان جو بات کہتے ہیں، وہ یہ ہے کہ وہ سانچیز کو درخت سے لٹکا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔” اس بیان کو سیاسی حلقوں میں نہایت سنگین اور اشتعال انگیز قرار دیا جا رہا ہے۔
اپنے مخصوص تحقیر آمیز لہجے میں ویتو کیلس نے بائیں بازو کے رہنماؤں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پی پی کے جلسوں میں “مہذب، ملک سے محبت کرنے والے لوگ” آتے ہیں، جبکہ سوشلسٹ جماعت کے اجتماعات میں ایسے افراد ہوتے ہیں جو “کسی کی نمائندگی نہیں کرتے”، مگر باہمی اتحاد بنا کر اقتدار میں آ جاتے ہیں۔
اس نے وزیرِٹرانسپورٹ اوسکر پونتے کو توہین آمیز لقب دیتے ہوئے ٹرینوں میں تاخیر کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا اور کہا کہ میڈرڈ سے ثاراگوسا کا سفر اسے تین گھنٹے لگا، جو اس کے بقول یورپ کے کسی اور ملک تک ہوائی سفر جتنا وقت ہے۔
ویتو کیلس نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ اس کی موجودگی پر اتنا شور کیوں مچا، اور دعویٰ کیا کہ اس کے آنے پر جتنی بات ہو رہی ہے، اتنی تو اس کے ٹرین کے سفر پر بھی نہیں ہوئی۔ اس نے خود پر لگنے والے “ہراسانی” کے الزامات کو بھی مسترد کیا، تاہم حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے ایک مبینہ جنسی ہراسانی کے کیس کا کوئی ذکر نہیں کیا جو پی پی کے ایک میئر سے متعلق ہے۔
آخر میں ویتو کیلس نے فیخو اور جارجے آزکون کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے حاضرین سے اپیل کی کہ وہ ووٹ ضرور ڈالیں، چاہے کسی کو بھی دیں، لیکن مقصد یہ ہونا چاہیے کہ پیدرو سانچیز کو اقتدار سے باہر کیا جائے۔