سانچیز کو آراگون میں شکست کا خدشہ،وہ خطہ جو ہمیشہ اسپین کے قومی انتخابی مستقبل کی پیش گوئی کرتا رہا

Screenshot

Screenshot

ثاراگوسا/اسپین میں جمہوری دور کے آغاز سے اب تک آراگون کو ایک غیر معمولی حیثیت حاصل رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اسے اکثر “اسپین کا اوہائیو” قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ خطہ پندرہ عمومی انتخابات میں ہمیشہ اسی جماعت کے حق میں ووٹ دیتا رہا ہے جو بعد ازاں میڈرڈ میں سب سے بڑی قوت بن کر ابھری۔ اسی پس منظر میں 8 فروری کو ہونے والے آراگون کے علاقائی انتخابات کو وزیراعظم پیدرو سانچیز کے سیاسی مستقبل کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔

اگر رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق آراگون میں سوشلسٹ پارٹی کو شدید نقصان اٹھانا پڑا تو یہ 2027 کے عام انتخابات میں سانچیز کے لیے ایک واضح خطرے کی علامت ہوگا۔ ماہرین کے مطابق آراگون کا انتخابی رویہ محض علاقائی نہیں بلکہ قومی رجحانات کا پیش خیمہ ثابت ہوتا آیا ہے۔

ماضی قریب کی مثال 2023 کی ہے، جب پاپولر پارٹی نے خورخے اثکون کی قیادت میں آراگون میں آٹھ سال بعد اقتدار حاصل کیا۔ چند ہی ماہ بعد قومی انتخابات میں بھی پی پی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی، اگرچہ حکومت بنانے میں ناکام رہی۔ اسی طرح 2015 اور 2016 میں بھی آراگون کے نتائج نے قومی سیاست کی سمت پہلے ہی واضح کر دی تھی۔

آج کی صورت حال میں آراگون میں سوشلسٹ امیدوار پیلار الیگریا کو حکومتِ وقت کی نمائندہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث پارٹی کے اندر یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ یہ انتخابات دراصل سانچیز کے خلاف “ووٹ آف پنشمنٹ” بن سکتے ہیں۔ فراث (PSOE کی مرکزی قیادت) اگرچہ نتائج کو قومی رجحان سے الگ دکھانے کی کوشش کرے گی، لیکن سیاسی مبصرین کے نزدیک آراگون کے نتائج کو نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔

تازہ سرویز کے مطابق پاپولر پارٹی کو 37 سے 38 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے، جبکہ سوشلسٹ پارٹی 25 فیصد کے قریب سمٹ سکتی ہے۔ اگر یہ فرق دو ہندسوں تک پہنچتا ہے تو یہ سانچیز کے لیے ایک سخت سیاسی پیغام ہوگا۔ ساتھ ہی ووکس کی پوزیشن بھی مضبوط دکھائی دے رہی ہے، جو تاریخی طور پر اپنی نمائندگی میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔

بائیں بازو میں تقسیم بدستور برقرار ہے۔ چنتا آراگونیستا، آئی یو، سومار اور پودیموس الگ الگ میدان میں ہیں اور ان کے دوبارہ اتحاد کے امکانات نہ ہونے کے برابر دکھائی دیتے ہیں۔ اس تقسیم کا براہ راست فائدہ دائیں بازو کو پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق آراگون ایک چھوٹا سا اسپین ہے، جہاں شہری اور دیہی آبادی، مرکزی اور علاقائی جماعتیں اور نظریاتی توازن وہی تصویر پیش کرتے ہیں جو قومی سطح پر دکھائی دیتی ہے۔ اسی لیے آج کے نتائج محض ایک خودمختار خطے کی سیاست نہیں بلکہ پورے ملک کے مستقبل کی جھلک سمجھے جا رہے ہیں۔

اتوار کو ڈالے گئے ووٹ یہ طے کریں گے کہ آیا آراگون ایک بار پھر اسپین کے انتخابی مستقبل کا درست اندازہ پیش کرتا ہے یا نہیں۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اس کے اثرات زراگوزا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ان کی گونج میڈرڈ اور ایوانِ اقتدار تک سنائی دے گی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے