میڈرڈ کی صدر ایزابیل دیاث ایوسو  کی صحت پالیسی کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ میں اتوار کے روز ہزاروں افراد نے علاقائی حکومت کی صحت پالیسی کے خلاف مظاہرہ کیا۔ یہ احتجاج حکومتِ میڈرڈ کی صدر ایزابیل دیاث ایوسو کی پالیسیوں کے خلاف کیا گیا، جس میں مظاہرین نے سرکاری صحت نظام کے لیے مناسب فنڈنگ، نجکاری کے عمل کو روکنے اور بنیادی صحت سہولیات کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا۔

حکومتی نمائندگی کے مطابق مظاہرے میں تقریباً 8 ہزار افراد شریک ہوئے، جبکہ منتظمین کا دعویٰ ہے کہ تعداد 80 ہزار کے قریب تھی۔ یہ ریلی دوپہر بارہ بجے وزارتِ صحت کے سامنے سے شروع ہوئی اور “میڈرڈ کی سرکاری صحت کو بچاؤ، سب کی صحت کے لیے” کے نعرے کے تحت منعقد کی گئی۔ مظاہرے میں طبی عملے، مریضوں اور عام شہریوں نے شرکت کی اور صحت کے شعبے کی نجکاری کے خلاف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

ایک سرکاری اسپتال میں کام کرنے والی نرس ایلینا نے مظاہرین کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ وسائل اور عملہ مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے، جس کا اثر سب پر پڑ رہا ہے۔

مظاہرین نے پوئرتا دل سول پہنچ کر اپنے مطالبات پیش کیے، جن میں صحت کے شعبے کے لیے مناسب سرکاری بجٹ، نجکاری کے عمل کو روکنا، بنیادی صحت مراکز میں عملے کی کمی پوری کرنا، سرجری اور تشخیصی ٹیسٹوں کی طویل انتظار فہرستیں کم کرنا اور ذہنی صحت کے نیٹ ورک کو وسعت دینا شامل تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت ایک بنیادی حق ہے اور سرکاری صحت نظام اجتماعی اثاثہ ہے۔

احتجاج کے دوران طبی عملے کے لیے بہتر کام کے حالات، اوقاتِ کار میں سہولت اور محکموں کے درمیان مشاورت سے ایک جامع انتظامی منصوبہ بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اس کے علاوہ صحت کی صنعت کے اثر و رسوخ پر کنٹرول اور صنفی نقطہ نظر کو بھی اجاگر کیا گیا۔

ایک خاتون مظاہرہ کرنے والی نے شکایت کی کہ حال ہی میں جب انہوں نے ڈاکٹر سے وقت مانگا تو انہیں 24 دن بعد کی تاریخ دی گئی، جبکہ پہلے اگلے دن یا چند دنوں میں وقت مل جاتا تھا، جو نظام کی بگڑتی صورتحال کی عکاسی ہے۔

منتظمین کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج سرکاری صحت نظام کے دفاع کے لیے ایک مستقل جدوجہد کا حصہ ہے اور انہوں نے زور دیا کہ “سرکاری صحت کو بچانا ایک ہنگامی ضرورت ہے”۔

مظاہرے میں مختلف سیاسی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ ڈیجیٹل تبدیلی اور سرکاری امور کے وزیر اور میڈرڈ میں پی ایس او ای کے سربراہ اوسکار لوپس نے علاقائی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ سرکاری صحت کے فنڈز لوٹ کر عوام کے حق کو کاروبار میں بدل رہی ہے۔ جبکہ ماس میڈرڈ کی بلدیاتی ترجمان ریتا ماسترے نے کہا کہ شہر اور خطے کی معاشی و سیاسی اشرافیہ سرکاری صحت نظام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے