آج 8 فروری کو اراغون کے عوام اپنے نئے نمائندے منتخب کر رہے ہیں
Screenshot
ثاراگوسا/آج 8 فروری کو اراغون کے عوام اپنے نئے نمائندے منتخب کر رہے ہیں۔ یہ اراغون کی تاریخ کا پہلا قبل از وقت علاقائی انتخاب ہے، جس کے بارے میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا یہ فیصلہ سیاسی استحکام لائے گا یا غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دے گا۔
ان انتخابات کے قومی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اراغون کے موجودہ صدر اور پاپولر پارٹی (PP) کے امیدوار، خورخے ازکون، دوبارہ انتخاب کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے 2026 کے بجٹ کی منظوری کے لیے کسی بھی سیاسی جماعت سے اتفاق نہ ہو پانے پر اسمبلی تحلیل کر کے انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا۔ اگر بجٹ منظور نہ ہوتے تو یہ تین سالہ مدت میں مسلسل دوسری بار بجٹ میں توسیع ہوتی۔
پاپولر پارٹی کے قومی صدر البرتو نونیث فیخو کی سوچ کے مطابق، اگر کوئی حکومت مسلسل دو بجٹ منظور کرانے میں ناکام رہے تو اسے عوام سے دوبارہ رجوع کرنا چاہیے۔ اسی اصول کے تحت ازکون نے قبل از وقت انتخابات کا راستہ اختیار کیا۔
اب اراغون کے ووٹر یہ طے کریں گے کہ وہ آئندہ چار برس کے لیے کس پر اعتماد کرتے ہیں۔ تاہم سروے اگر درست ثابت ہوئے تو ایک بار پھر انتہائی دائیں بازو کی جماعت ووکس (Vox) فیصلہ کن حیثیت اختیار کر سکتی ہے اور حکومت سازی میں اس کا کردار کلیدی ہوگا۔ انتخابی مہم کے دوران پی پی اور ووکس کے درمیان قربت کے آثار نظر نہیں آئے، اگرچہ ممکن ہے نتائج کے بعد صورتحال بدل جائے۔
ابتدا میں یہ امید کی جا رہی تھی کہ قومی توجہ ملنے کے باعث انتخابی مہم میں اراغون کے اصل مسائل زیرِ بحث آئیں گے، جیسے آبادی میں کمی، منصفانہ مالیاتی نظام، سڑک اور ریل کے منصوبوں کی تکمیل، اور توانائی پر مبنی نئے معاشی ماڈل کے اثرات۔ اسی طرح رہائش کے بحران، موسمیاتی تبدیلی اور محنت کشوں کے حالات جیسے قومی مسائل پر بھی سنجیدہ گفتگو کی توقع تھی۔
لیکن حقیقت یہ رہی کہ بڑی جماعتوں کی قومی قیادت کی مسلسل آمد نے مہم کو قومی سیاسی کشمکش میں بدل دیا۔ ووکس کے صدر سانتیاگو اباسکل نے درجنوں جلسے کیے، پی پی کے سربراہ فیخو آخری مرحلے میں سرگرم رہے، جبکہ وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے تینوں صوبائی دارالحکومتوں میں جلسے کیے۔ نتیجتاً اراغون کے مقامی مسائل پس منظر میں چلے گئے۔
مہم کے آغاز میں آدیموث کی ریلوے حادثے نے فضا کو مزید کشیدہ کر دیا اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان الزامات کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس سے اراغون پر توجہ مزید کم ہو گئی۔
اس پس منظر میں سوال اٹھتا ہے کہ آیا ووٹر قومی سیاست کو مدنظر رکھ کر ووٹ دیں گے یا اراغون کی الگ شناخت اور آواز کو ترجیح دیں گے۔ سروے یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ پی پی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرے گی، ووکس اپنی نشستیں دوگنی کر سکتی ہے، جبکہ سوشلسٹ پارٹی (PSOE) اپنی تاریخ کے کم ترین نتائج کے قریب پہنچ سکتی ہے۔ سوشلسٹ ووٹوں سے فائدہ زیادہ تر علاقائی جماعت CHA کو ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
سروے تاریخی جماعت PAR اور پودیموس کے لیے بھی مایوس کن ہیں۔ بائیں بازو میں IU اور موومنتو سومار کا اتحاد اپنی موجودہ پوزیشن برقرار رکھ سکتا ہے یا معمولی بہتری دکھا سکتا ہے، حالانکہ ان کی امیدوار مارتا ابینگوچیا نسبتاً کم معروف ہیں۔ ادھر آراگون،تیروئل ایگزستے جیسی معتدل اور مفاہمتی جماعت کو قطبی سیاست میں اپنی جگہ بنائے رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔
اگر یہی نتائج سامنے آئے تو قبل از وقت انتخابات سے ازکون کو وہ فائدہ حاصل نہیں ہو پائے گا جس کی امید کی جا رہی تھی۔ وہ شاید ایک دو نشستیں بڑھا لیں، مگر ووکس کے بغیر حکومت بنانا مشکل رہے گا۔ مرکز کی جماعتوں کے کمزور ہونے سے ایک معتدل، علاقائی اتحاد کا راستہ بھی تقریباً بند ہو جائے گا، الا یہ کہ سوشلسٹ پارٹی ازکون کو اقتدار کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ تاہم سوشلسٹ امیدوار پیلار الیگریا اس امکان کو مسترد کر چکی ہیں اور خود کو دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کے مقابل متبادل قرار دیتی رہی ہیں۔
آج کے نتائج اس بات کا بھی فیصلہ کریں گے کہ قومی سطح کے سیاسی اسکینڈلز نے ووٹرز کو کس حد تک متاثر کیا۔ پیلار الیگریا کو مہم کے آخری دنوں میں اپنے سابق ساتھی پر جنسی ہراسانی کے الزامات کے معاملے کا سامنا کرنا پڑا۔ پی پی کو ایک اور معاملے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ تیروئل ایگزستے کے امیدوار توماس گویتارتے پر بھی الزامات لگے۔ ووکس کے امیدوار الیخاندرو نولاسکو کا ایبرو دریا کے پانی کی منتقلی کے حق میں مؤقف بھی پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ تمام تنازعات ووٹرز کو متحرک کرتے ہیں یا غیر یقینی ووٹروں کو مزید الجھا دیتے ہیں۔ پولنگ اسٹیشن شام 8 بجے بند ہوں گے، اور اس کے بعد یہ تمام سوالات واضح ہو جائیں گے۔آج واقعی اراغون کا مستقبل صرف اراغون کے عوام ہی لکھیں گے۔