پولیس نے 2025 میں 3,398 غیر ملکیوں کو ملک بدر کیا جو گزشتہ سال سے 12 فیصد زیادہ ہے
Screenshot
میڈرڈ/ ہسپانوی Ministerio del Interior (وزارت داخلہ) کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں سیکیورٹی فورسز کے شروع کیے گئے طریقہ کار کے تحت مجموعی طور پر 3,398 غیر ملکیوں کو اسپین سے بے دخل (expulsión) کیا گیا، جو 2024 کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ ہے۔
اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ 2021 کے مقابلے میں اخراج کے کیسز میں 67 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2021 میں 2,025 افراد کو بے دخل کیا گیا تھا، جبکہ بعد کے سالوں میں یہ تعداد بتدریج بڑھتی رہی:
- 2022: 2,627 اخراج
- 2023: 3,090 اخراج
- 2024: 3,031 اخراج
- 2025: 3,398 اخراج
اس طرح، 2021 سے 2025 کے درمیان مجموعی طور پر 14,171 افراد کو اسپین سے بے دخل کیا گیا۔
یہ تعداد صرف ان اخراج کے احکامات پر مشتمل ہے جو مختلف وجوہات، خصوصاً قومی سلامتی سے متعلق معاملات میں جاری کیے گئے۔ اس میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے مہاجرین کی فوری واپسی (devoluciones) شامل نہیں ہے۔
اس طرح کے اخراج کے طریقہ کار کی کارروائی Policía Nacional (نیشنل پولیس) انجام دیتی ہے، جسے قانونِ امیگریشن کے تحت اس معاملے میں خصوصی اختیار حاصل ہے۔
اگر کوئی غیر ملکی غیر قانونی طور پر مقیم ہو تو اس کے خلاف اخراج کا عام یا ترجیحی طریقہ کار شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق بھی ہوتا ہے، اور حتمی فیصلہ عدالت کرتی ہے۔
اسی طرح، تعزیراتی قانون (Código Penal) کے آرٹیکل 89 کے تحت، اگر کسی غیر ملکی کو ایک سال سے زیادہ قید کی سزا ہو تو جیل کی سزا کے بجائے اسے براہ راست اپنے ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اگر وہ شخص 10 سال سے زیادہ عرصہ اسپین میں مقیم رہا ہو، تو سزا کی حد پانچ سال تک ہو سکتی ہے اور دوبارہ جرم کے امکان کا جائزہ لیا جاتا ہے۔