اسپین کے سفارتکاروں نے حکومت کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کے منصوبے پر شدید تشویش کا اظہارکردیا

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ/ اسپین کے سفارتکاروں نے حکومت کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کے منصوبے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے کے باعث قونصل خانوں پر پہلے سے موجود کام کا بوجھ مزید بڑھ گیا ہے اور انتظامی تیاری ناکافی ہے۔

ایسوسی ایشن آف اسپینش ڈپلومیٹس کے صدر البرتو وریلا نے کہا کہ یہ فیصلہ بغیر مناسب منصوبہ بندی کے کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی ذمہ دار انتظامیہ کو پہلے یہ جائزہ لینا چاہیے تھا کہ اس عمل کے لیے کتنے وسائل درکار ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس فیصلے سے نہ صرف درخواست دینے والوں کو مشکلات پیش آئیں گی بلکہ قونصل خانوں کا عملہ بھی شدید دباؤ کا شکار ہوگا۔

حکومت نے 27 جنوری کو اعلان کیا تھا کہ اپریل سے 30 جون 2026 تک غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ اندازہ ہے کہ اس سے کم از کم پانچ لاکھ افراد فائدہ اٹھا سکیں گے، جبکہ بعد میں خاندانی ملاپ (فیملی ری یونین) کے ذریعے یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔

سفارتکاروں کے مطابق قونصل خانے پہلے ہی “قانونِ یادداشتِ جمہوریت” کے تحت شہریت کی درخواستوں کی بڑی تعداد سے نمٹ رہے ہیں۔ اس قانون کے تحت بیرون ملک مقیم ہسپانوی نژاد افراد کو شہریت دینے کی اجازت دی گئی تھی، جس کے نتیجے میں تقریباً 24 لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں اور قونصل خانوں میں شدید تاخیر اور رش پیدا ہوگیا۔

ایک ہسپانوی قونصل جنرل نے بتایا کہ بیرون ملک ہسپانوی شہریوں کی تعداد بڑھ کر تقریباً 30 لاکھ ہوچکی ہے، جبکہ وسائل وہی ہیں جو بیس سال پہلے تھے جب یہ تعداد صرف 10 لاکھ تھی۔ ان کے مطابق جلد ہی یہ تعداد 50 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے، جس سے پاسپورٹ، رجسٹریشن اور دیگر خدمات کا دباؤ مزید بڑھے گا۔

اس معاملے پر محتسب (اومبڈزمین) نے بھی پہلے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ قونصل خانوں میں عملہ اور وسائل بڑھانے کی ضرورت ہے، خاص طور پر کیوبا، ایکواڈور، برازیل اور مراکش جیسے ممالک میں درخواستوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔

اگرچہ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ قونصل خانوں کی ڈیجیٹلائزیشن اور اضافی وسائل فراہم کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم سفارتکاروں کا مؤقف ہے کہ عملی طور پر کوئی بڑا اضافہ نہیں کیا گیا اور زیادہ تر تبدیلیاں محدود وسائل کے اندر ہی کی جا رہی ہیں۔

سفارتکاروں نے مزید کہا کہ حکومت نے 2014 کے قانون کے تحت بیرون ملک خدمات کے وسائل سے متعلق لازمی رپورٹ بھی تیار نہیں کی، جس کی وجہ سے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔

یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب اسپین حکومت غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کے ایک بڑے پروگرام پر عملدرآمد کی تیاری کر رہی ہے، جس سے قونصل خانوں پر غیر معمولی دباؤ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے