قادس میں خصوصی تقریب،عزیز بلوچ: وہ پاکستانی جو اسپین میں “مارچینیتا” کے نام سے مشہور ہوا،کو خصوصی خراج تحسین 

Screenshot

Screenshot

قادس /اسپین کے صوبہ قادس کی انتظامیہ (Diputación de Cádiz) نے پاکستان اور قادس کے درمیان ثقافتی اور ادارہ جاتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا، جس میں اسپین میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹرظہور احمد، صوبائی نائب صدر خوانچو اورتیث اور ثقافتی امور کی رکن وانیسا بیلتران نے شرکت کی۔

Screenshot

اس موقع پر “پاکستان، ایک دریافت کے قابل ثقافت” کے عنوان سے نمائش کا افتتاح کیا گیا، جس کے ساتھ گیلرمو بوتو نے پاکستانی نژاد موسیقار عزیز بلوچ پر ایک خصوصی لیکچر دیا۔ تقریب میں عزیز بلوچ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے فلیمینکو موسیقی اور رقص کی خصوصی پیشکش بھی کی گئی۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خوانچو اورتیث نے پاکستان اور قادس کے درمیان ثقافتی مماثلت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں خطے تہذیبوں کے ملاپ، مکالمے اور ثقافتی تبادلے سے پروان چڑھے ہیں۔ ان کے مطابق قادس نے اپنی شناخت دنیا کے لیے کھلے پن کے ذریعے قائم کی، اور یہی خصوصیت پاکستان میں بھی صدیوں سے موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ثقافت باہمی سمجھ بوجھ اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔

اسپین میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹرظہور احمد نے تقریب کے انعقاد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسپین میں فلیمینکو سننا ایسا ہے جیسے وہ اپنے دوسرے گھر میں ہوں۔ انہوں نے یہ الفاظ عزیز بلوچ کے انداز میں ادا کیے۔

سفیر نے پاکستان اور قادس کے درمیان تجارتی اور ثقافتی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا، خاص طور پر ٹیکنالوجی، انسانی وسائل، سیاحت، ساحلی علاقوں کے تحفظ، ثقافتی ورثے کی حفاظت اور ڈیجیٹلائزیشن کے شعبوں میں۔

اس تقریب میں تقریباً پچاس افراد نے شرکت کی، جن میں جبرالٹر اور الحمرا کے نمائندے بھی شامل تھے۔

“پاکستان، ایک دریافت کے قابل ثقافت” نمائش میں 60 تصاویر شامل ہیں، جو پاکستان کی روایات، صوفی ثقافت، روایتی لباس، پہاڑی مناظر اور پاکستانی کھانوں کو نمایاں کرتی ہیں۔ یہ نمائش قادس کے صوبائی محل کے کلاوسٹر میں 13 مارچ تک عوام کے لیے کھلی رہے گی۔

تقریب کے دوران فلیمینکو گٹار، گائیکی اور رقص کی پیشکش کی گئی، جس میں فنکاروں نے پاکستانی موسیقار عزیز بلوچ کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

عزیز بلوچ وہ پاکستانی فنکار تھے جو اسپین آ کر فلیمینکو گائک بن گئے اور ہسپانوی جمہوری دور میں انہیں “مارچینیتا” کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ان کی شخصیت پاکستانی صوفی موسیقی اور ہسپانوی فلیمینکو کے درمیان ایک منفرد ثقافتی پل کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے