اسپین میں ایک دہائی سے زائد عرصے میں پہلی بار بچوں کی شرح پیدائش میں اضافہ

Screenshot

Screenshot

2014 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اس ملک میں سالانہ بچوں کی پیدائش کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ 2014 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اس ملک میں سالانہ بچوں کی پیدائش کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2025 میں اسپین میں پیدائش کی شرح ایک دہائی سے زائد مدت کے بعد پہلی بار بڑھی ہے، جو کہ یورپ کے بدترین آبادیاتی بحرانوں میں سے ایک سے دوچار اس ملک کے لیے ایک خوش آئند امر ہے۔

قومی ادارۂ شماریات (آئی این ای) کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال اسپین میں 3,21,164 بچوں کی پیدائش ہوئی، جو 2024 کے مقابلے میں 3,159 یعنی تقریباً ایک فیصد زیادہ ہے۔  2014 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اس ملک میں سالانہ بچوں کی پیدائش کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

تاہم 2025 میں اموات کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 2.5 فیصد بڑھ کر 4,46,982 ہو گئی، جس کے نتیجے میں آبادی میں 1,22,167 کی کمی واقع ہوئی۔

آئی این ای کی گزشتہ ہفتے جاری ہونے والی  رپورٹ کے مطابق یکم جنوری تک اسپین کی آبادی 4 کروڑ 95 لاکھ تھی، جن میں 72 لاکھ غیر ملکی شامل ہیں، جو کل آبادی کا 14.6 فیصد بنتے ہیں۔

وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے گزشتہ ماہ تقریباً 5 لاکھ غیر دستاویزی تارکین وطن، جن میں زیادہ تر لاطینی امریکہ سے تعلق رکھتے ہیں، کو قانونی حیثیت دینے کا منصوبہ پیش کیا

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے