یونان،غیر قانونی تارکینِ وطن کی مدد کرنے والے این جی او ارکان کے لیے 10 سال تک قید کی سزا کا قانون منظور

Screenshot

Screenshot

یونان کی پارلیمنٹ نے گزشتہ جمعرات ایک متنازع قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت ایسے غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے ارکان کو، جو سمندر یا خشکی کے راستے غیر قانونی تارکینِ وطن کے داخلے میں مدد فراہم کریں، زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا دی جا سکے گی۔

یہ قانون حکمران جماعت Kyriakos Mitsotakis کی پارٹی نیو ڈیموکریسی (ND) کے ارکان کی حمایت سے منظور کیا گیا، جسے پارلیمنٹ میں حاصل قدامت پسند اکثریت کی بنیاد پر منظوری ملی۔

پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ مہاجرت Thanos Plevris نے کہا کہ خاص طور پر ان افراد کے لیے سزائیں مزید سخت ہونی چاہئیں جو قومی این جی او رجسٹر میں درج ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو افراد وزارتِ مہاجرت کے مالی تعاون سے چلنے والے پروگراموں میں حصہ لیتے ہیں، وہ زیادہ ذمہ داری کے حامل ہوتے ہیں، اس لیے اگر وہ غیر قانونی داخلے میں کسی بھی طرح ملوث پائے جائیں تو ان کے خلاف مزید سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔

یہ قانون یونان اور یورپ میں مہاجرت کے مسئلے پر جاری بحث کے دوران منظور کیا گیا ہے، اور اس پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے