بادالونا کے ہسپتالوں میں میٹاسٹیٹک پروسٹیٹ کینسر کے لیے جدید ریڈیو تھراپی کا آغاز
Screenshot
بادالونا/ کانروتی ہسپتال Hospital Germans Trias i Pujol اور Institut Català d’Oncologia (ICO) بادالونا اسپین کے اُن اولین طبی مراکز میں شامل ہو گئے ہیں جہاں میٹاسٹیٹک (پھیل چکے) پروسٹیٹ کینسر کے مریضوں کے علاج کے لیے ایک جدید اور ہدفی ریڈیو فارماکولوجیکل تھراپی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس نئے علاج کی حال ہی میں ہسپانوی وزارت صحت نے منظوری دی ہے۔
یہ جدید طریقہ علاج ایک مخصوص ریڈیو دوا 177Lu-PSMA پر مبنی ہے، جس میں تابکار مادہ لُوٹیشیم-177 کو براہِ راست کینسر کے اُن خلیات تک پہنچایا جاتا ہے جو پروسٹیٹ مخصوص اینٹیجن (PSMA) کو زیادہ مقدار میں ظاہر کرتے ہیں۔ اس عمل کے ذریعے کینسر کے خلیات کو نشانہ بنا کر ختم کیا جاتا ہے جبکہ اردگرد کے صحت مند ٹشوز کو زیادہ نقصان نہیں پہنچتا۔
ماہرین کے مطابق یہ تھراپی نہ صرف زیادہ مؤثر بلکہ محفوظ بھی ہے، اور خاص طور پر 50 سال سے زائد عمر کے مردوں میں کینسر سے ہونے والی اموات کی ایک بڑی وجہ یعنی پروسٹیٹ کینسر کے علاج میں اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
کلینیکل آزمائشوں کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ اس نئے علاج سے مریضوں کی زندگی میں نمایاں اضافہ ہوا، معیارِ زندگی بہتر ہوا، اور بعض کیسز میں ٹیومر کا حجم 40 فیصد تک کم ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ بیماری کی رفتار بھی سست ہو گئی اور سنگین مضر اثرات دیکھنے میں نہیں آئے۔
یہ علاج نیوکلیئر میڈیسن کے شعبے میں بذریعہ انجکشن دیا جاتا ہے، جو تقریباً نو ماہ کے دوران چھ مراحل میں مکمل ہوتا ہے۔ علاج شروع کرنے سے پہلے PET/CT اسکین کے ذریعے اس بات کی تصدیق کی جاتی ہے کہ کینسر کے خلیات PSMA کو ظاہر کر رہے ہیں، تاکہ دوا کو درست ہدف تک پہنچایا جا سکے۔
اس تھراپی کا استعمال اُن مریضوں میں کیا جاتا ہے جو پہلے ہارمون تھراپی اور کیموتھراپی سے گزر چکے ہوں اور جن کے جگر اور گردوں کی کارکردگی مناسب ہو۔ اس سلسلے میں پہلا مریض 65 سالہ شخص ہے جس کا کینسر ہڈیوں اور لمف نوڈز تک پھیل چکا تھا اور جو پہلے تمام روایتی علاج حاصل کر چکا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جدید علاج ایسے مریضوں کے لیے ایک نئی امید ہے جن کے لیے دیگر علاج مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔ واضح رہے کہ پروسٹیٹ کینسر کاتالونیا میں مردوں میں سب سے عام کینسر ہے، تاہم بروقت اور جدید علاج سے اس کا علاج ممکن اور کامیاب ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔